
Sahar Mahmood
Sahar Mahmood
Sahar Mahmood
Ghazalغزل
munh se jo kuchh bolo bhayyaa
منہ سے جو کچھ بولو بھیا پہلے اس کو تولو بھیا بوجھ ذرا کم ہو جائے گا یاد میں ان کی رو لو بھیا تنہا کب تک چلتے رہو گے ساتھ کسی کے ہولو بھیا یہ گلیاں بدنام بہت ہیں جلد یہاں سے ڈولو بھیا میں نے بھی یہ سیکھ لیا ہے پیار ہو جس سے بولو بھیا اچھا ہے یہ درد کسی کا اپنے دل میں سمو لو بھیا دیر ہوئی میں کان دھرے ہوں دروازہ تو کھولو بھیا
dard ki surat mein vo umda saa tohfa de gayaa
درد کی صورت میں وہ عمدہ سا تحفہ دے گیا بے وفا دنیا میں جینے کا سہارا دے گیا جسم ہے آزاد لیکن دل اسیر عشق ہے کچھ حقیقت دے گیا وہ کچھ فسانہ دے گیا ساری دنیا ایک دن یوں ہی فنا ہو جائے گی جلتے جلتے ایک پروانہ اشارہ دے گیا اپنے مستقبل کو روشن کرنے نکلے تھے مگر شہر کا سورج تو آنکھوں کو اندھیرا دے گیا ہو گئے کافور سارے غم بہ یک لخت و نظر جب کبھی وہ داد امید تمنا دے گیا کس قدر ویران ہے اس کے بنا سارا چمن سوچتا رہتا ہوں وہ کیا لے گیا کیا دے گیا رقص فرما ذہن میں ہے اب بھی وہ صورت سحرؔ جاتے جاتے اپنی یادوں کا خزانہ دے گیا





