Sahba Waheed
Sahba Waheed
Sahba Waheed
Ghazalغزل
ہر ایک بندش خود ساختہ بیاں سے اٹھا تکلفات کا پردہ بھی درمیاں سے اٹھا فقط خلا ہی نہیں ہے صدا لگاتے چلو کہ ابر بارش نیساں بھی آسماں سے اٹھا شجر کے سائے میں بیٹھا ہوں میں تجھے کیا ہے جو ہو سکے تو مجھے اپنے آستاں سے اٹھا فسوں طراز تھی کب چشم نیم وا اتنی لہو کا فتنہ مگر زیب داستاں سے اٹھا نظر نہ آئی جو راہ مفر تو پھر میں بھی دھواں دھواں سا سر بزم دوستاں سے اٹھا یہاں کی رسم ہے صہباؔ کساد بازاری یہ جنس دل ہے بڑی بے بہا دکاں سے اٹھا
har ek bandish-e-khud-saakhta bayaan se uThaa
جواز آب و تاب اب گلاب کے لیے نہیں ہماری یاد زینت کتاب کے لیے نہیں نکل کے آسماں پہ آ سمندروں پہ نام لکھ تو چاند ہے تو چادر حجاب کے لیے نہیں مری امانتیں سنبھال اجال دے مرے نقوش یہ درد اب کسی سے انتساب کے لیے نہیں مروتوں کے زخم بھی عزیز رکھنا جان سے سلوک دوستاں ہے یہ حساب کے لیے نہیں لہو کا ذائقہ نہ چکھ لہو کا تجربہ نہ کر لہو ہے اضطراب اضطراب کے لیے نہیں مرے جنوں کو خیر و شر کے دائرے سے دور رکھ یہ زندگی کا حسن انتخاب کے لیے نہیں ہر ایک اجنبی سے اپنا مدعا بیاں نہ کر نظر شناس ہے تو اجتناب کے لیے نہیں
javaaz-e-aab-o-taab ab gulaab ke liye nahin
ایک اک سے یہی کہتا ہوں بتا میں کیا ہوں ایک مدت ہوئی میں بھول گیا میں کیا ہوں نقش بر آب سہی آپ بنا آپ مٹا اب تلک ہلتی ہے زنجیر صدا میں کیا ہوں اپنی پہنائی میں گم کردہ نشاں ہوں میں بھی تو اگر ہے اسی دنیا کا خدا میں کیا ہوں ایک تاریخ ولادت ہے مری ایک وفات ان حقائق کے سوا اور بتا میں کیا ہوں اب کہاں ڈھونڈھنے جاؤ گے مجھے اے لوگو ہو چکا خاک گئی لے کے ہوا میں کیا ہوں
ek ik se yahi kahtaa huun bataa main kyaa huun
مہلت نہ دے ذرا بھی مجھے میری جان کھینچ میں آرزو تمام ہوں اپنی کمان کھینچ اک محشر جمال اٹھا توڑ دے جمود تیر نظر زمین سے تا آسمان کھینچ میں آ رہا ہوں برسر موج ہوائے گل تو لاکھ اپنے گرد حصار مکان کھینچ لمحات بے اماں بھی غنیمت ہیں پاس آ موضوع دیگراں بھی نہ اب درمیان کھینچ وہ لب چشیدنی ہیں وہ دامن کشیدنی آئے نہ گر یقیں تو پئے امتحان کھینچ صہباؔ یہ شہر زیست صداؤں کا شہر ہے یعنی طناب حسرت حسن بیان کھینچ
mohlat na de zaraa bhi mujhe meri jaan khinch
بیم و رجا میں قید ہر اک ماہ و سال ہے جیسے یہ زندگی بھی کوئی یرغمال ہے الجھا ہوں آتی جاتی صداؤں سے بارہا بچھڑا ہوں ہر نوا سے کہ خواب و خیال ہے ٹوٹا ہوں اس طرح کہ بکھرتا چلا گیا بکھرا ہوں اس طرح کہ سنورنا محال ہے اس جبر و اختیار سے پامال میں بھی ہوں اے روح احتجاج بتا کیا خیال ہے ویران رہ گزار پہ اڑتی ہے روز خاک اب تک مری تلاش میں باد شمال ہے صورت گری کے شوق نے گمراہ کر دیا اب میں مری جبیں مرا دست سوال ہے بس یوں ہی مت گزر کبھی صہبا سے بات کر کہتے ہیں اس سے ملنا بڑا نیک فال ہے
bim-o-rajaa mein qaid har ik maah-o-saal hai





