Sahil Manakpuri
Dar ke vo baat se apni jo mukar jaaegaa
ڈر کے وہ بات سے اپنی جو مکر جائے گا ایک خنجر مرے سینے میں اتر جائے گا اک ذرا رات کٹے صبح کا سورج نکلے دھوپ کے رنگ میں ہر پھول نکھر جائے گا جسم جل جائے گا ہڈی بھی چٹخ جائے گی وقت کے ساتھ ہی سب رنگ اتر جائے گا ان کی آنکھوں میں ابھی تیشۂ سورج بھی نہیں ابر اٹھے گا تو جسموں پہ بکھر جائے گا پھرتے دیکھے گا مجھے شہر میں آوارہ اگر لے کے مایوسی کا احساس وہ گھر جائے گا