SHAWORDS
S

Saib Asmi

Saib Asmi

Saib Asmi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

دل میں رہنا ہے پریشان خیالوں کا ہجوم اور آنکھوں میں قیامت کا سماں رہتا ہے عشق کے راز کو جتنا میں نہاں رکھتا ہوں خامشی سے مری اتنا ہی عیاں رہتا ہے روتا رہتا ہوں کسی غم زدہ کے رونے پر اور دل مرکز آلام جہاں رہتا ہے رفعت فکر ہے حاصل مجھے الفت کے طفیل جو نہ یہ ہو تو کہاں حسن بیاں رہتا ہے لالہ کاری کا سلیقہ بھی نگہ کو آیا آنسوؤں کی جگہ اب خون رواں رہتا ہے کشتیٔ زیست ہے گرداب بلا میں صائبؔ آج کل نام خدا ورد زباں رہتا ہے

dil mein rahnaa hai pareshaan khayaalon kaa hujum

غزل · Ghazal

جو شکایت غم زندگی کبھی لب پر اپنے نہ لا سکے وہ شب فراق کی داستاں بھلا کیا کسی کو سنا سکے کئی سر سے گزریں قیامتیں پڑیں ہم پہ لاکھ مصیبتیں دیں فلک نے کتنی اذیتیں تمہیں دل سے ہم نہ بھلا سکے تو وفا شناس ضرور ہے یہ تمام اپنا قصور ہے یہ عجب جنوں کا غرور ہے ترے آستاں پہ نہ جا سکے وہی درد دل کی ہے داستاں جو ہمیشہ دل میں رہے نہاں کرے ایک بار کوئی بیاں تو زمانے بھر کو رلا سکے

jo shikaayat-e-gham-e-zindagi kabhi lab par apne na laa sake

غزل · Ghazal

ان کے آتے ہی میں ہو جاتا ہوں بے خود اتنا وہ چلے جاتے ہیں پہلو سے تو ہوش آتا ہے عشق ہے عشق کوئی کھیل تماشا تو نہیں جیتے جی دل سے خیال ان کا کہاں جاتا ہے در و دیوار یہ کہتے ہوئے آتے ہیں نظر وہ ابھی آئے گا دیکھو وہ چلا آتا ہے لالہ و گل ہیں چمن میں کہ کھلے جاتے ہیں غنچۂ دل ہے مرا ایک کہ مرجھاتا ہے ہے شب ماہ میں کیوں وجد کا عالم مجھ پر کون یہ ساز رگ جاں پہ غزل گاتا ہے کچھ عجب رنگ سے دیکھا ہے کسی نے صائبؔ رنگ اک چہرے پہ آج آتا ہے اک جاتا ہے

un ke aate hi main ho jaataa huun be-khud itnaa

غزل · Ghazal

دل اضطراب میں ہے جگر التہاب میں دیکھا ہے جب سے میں نے کسی کو نقاب میں کھل جانے میں وہ کیف اور وہ دل کشی کہاں ہے جب کسی کی شرم و حیا و حجاب میں میں کھینچتا ہوں ہاتھ سکوں کی تلاش سے جب دیکھتا ہوں ایک جہاں کو عذاب میں اے شیخ کاش تو بھی کبھی پی کے دیکھتا ہے تلخیٔ حیات کا درماں شراب میں یہ شوخیاں یہ غفلتیں یہ ہوشیاریاں انداز سو طرح کے ہیں تیرے شباب میں کیا آج بھی رہیں گی ستاروں سے چشم گیں کیا آج بھی نہ آئیں گے وہ ماہتاب میں اک اک ادائے حسن ہماری نظر میں ہے الفت کی چاشنی ہے نگاہ عتاب میں صائبؔ نہ پوچھ حال دل غم زدہ نہ پوچھ ہر سانس میری ان دنوں ہے اضطراب میں

dil iztiraab mein hai jigar iltihaab mein

غزل · Ghazal

ہے مدرسہ یہی تو یہی خانقاہ ہے انساں کا دل ہی ایک بڑی درس گاہ ہے رسوا نہ کر دے مجھ کو یہ انداز خامشی ان کے سوا ہر ایک کی مجھ پر نگاہ ہے شرمائے بھی وہ اپنے ستم پر تو کیا ہوا شرم و حیا سے ہم پہ کب ان کی نگاہ ہے جو پیار کی نہیں نہ سہی قہر کی سہی چارہ مرے مرض کا تری اک نگاہ ہے اس نے نقاب چہرے سے الٹا تو ہے مگر یارائے دید کس کو کہ حائل نگاہ ہے کچھ منحصر گلوں پہ نہیں چشم شوق میں ہر ذرہ گلستاں کا تری جلوہ گاہ ہے عصیاں بقدر شان کریمی نہیں مرے کوئی گناہ ہے تو یہی اک گناہ ہے گویا کسی کے عشق میں ہم نیم جاں نہ تھے کیا آئے وہ کہ اب نہ فغاں ہے نہ آہ ہے ہے پیش خیمہ رنجش عمر دراز کا ان سے جو یہ گھڑی دو گھڑی کا نباہ ہے کیوں ہو گیا نہ دیکھتے ہی میں شہید حسن ہر بار ان کو دیکھوں یہ عجز نگاہ ہے اس بے ہنر کو بھائے کسی کا کمال کیا صائبؔ فقط عیوب پہ جس کی نگاہ ہے

hai madrasa yahi to yahi khaanqaah hai

Similar Poets