Saif Bijnori
کوئی مقام نہیں حد اعتبار کے بعد کہاں میں سجدہ کروں آستان یار کے بعد اٹھوں تو جاؤں کہاں جائے پر بہار کے بعد کہیں پناہ نہیں ان کی رہ گزار کے بعد کہاں کا عزم ہے اے دل حصول کار کے بعد اب اور بھی کوئی کعبہ ہے کوئے یار کے بعد تباہ ہم ہوئے بیم و رجا میں آخر کار کچھ انتظار سے پہلے کچھ انتظار کے بعد گلا نہیں ہے جفا کا مگر سوال یہ ہے ستائیں گے کسے پھر آپ جاں نثار کے بعد کسے خبر ہے کہ گزرے گی اس اسیر پہ کیا قفس ملے جسے رنگینیٔ بہار کے بعد سحر کے ہوتے ہی رخصت ہوا مریض فراق جہاں میں کام ہی کیا تھا اب انتظار کے بعد کسی سے مشورۂ ترک عشق سیفؔ نہ کر نہ سن کسی کی دل آزمودہ کار کے بعد
koi maqaam nahin hadd-e-eatibaar ke baad