SHAWORDS
Saif Dehlvi

Saif Dehlvi

Saif Dehlvi

Saif Dehlvi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ہو گیا ان سے ہمیں پیار خدا خیر کرے کرنے والے ہیں ہم اظہار خدا خیر کرے آج آنا تھا انہیں شام ڈھلی جاتی ہے دل ہوا جاتا ہے بیزار خدا خیر کرے وہ کسی اور کے ہم راہ نظر آتے ہیں بے وفائی کے ہیں آثار خدا خیر کرے جیب خالی ہے مری ساتھ میں بچے ہیں مرے اور کھلونوں کا ہے بازار خدا خیر کرے دیکھنے والے سبھی دیکھ کے کہتے ہیں یہی مر نہ جائے ترا بیمار خدا خیر کرے یہ جو اس دور کے انسان خدا ہیں خود میں یہ قیامت کے ہیں آثار خدا خیر کرے حضرت سیفؔ محبت کا نشہ ہو جن پر ان کو سمجھانا ہے بے کار خدا خیر کرے

ho gayaa un se hamein pyaar khudaa khair kare

1 views

غزل · Ghazal

میں تم سے یہ نہیں کہتا سوال مت پوچھو مگر خدا کے لئے میرا حال مت پوچھو تمہارے شہر سے اور تم سے دور جانے کا ہمارے دل کو ہے کتنا ملال مت پوچھو ہم اپنے یار سے بچھڑے تو کس طرح بچھڑے تمہیں ہماری قسم یہ سوال مت پوچھو امیر شہر ہیں یہ ان کا احترام کرو یہ لوگ کیسے ہوئے مالا مال مت پوچھو میں کیا بتاؤں تمہیں سیفؔ کتنا مشکل ہے سخن میں لانا نیا اک خیال مت پوچھو

main tum se ye nahin kahtaa savaal mat puchho

غزل · Ghazal

بغیر آپ کے جینا سزا سا لگتا ہے ہمارا حال ہمیں خود برا سا لگتا ہے ہاں ایسا وقت بھی آتا ہے راہ الفت میں قریب ہوتے ہوئے فاصلہ سا لگتا ہے یقین کیجئے جس دن سے خط لکھا اس کو ہر ایک شخص مجھے ڈاکیہ سا لگتا ہے مرے خدا تری امداد کی ضرورت ہے مجھے یہ شہر بھی اب کربلا سا لگتا ہے ہمارے سامنے جب تم کسی سے ملتے ہو برا نہ ماننا ہم کو برا سا لگتا ہے میں جانتا ہوں کہ وہ بے وفا نہیں لیکن کبھی کبھی وہ مجھے بے وفا سا لگتا ہے

baghair aap ke jiinaa sazaa saa lagtaa hai

غزل · Ghazal

اتنا نہیں نظر کو ہی بھاتا چلا گیا وہ شخص میرے دل میں سماتا چلا گیا میرے قلم نے خاص تو کچھ بھی نہیں کیا جو سو رہے تھے ان کو جگاتا چلا گیا لوگوں نے میرا راستہ روکا تھا میں مگر پانی کی طرح راہ بناتا چلا گیا یارو کمال ہے کہ وہ میرا نہ بن سکا لیکن مجھے وہ اپنا بناتا چلا گیا اس نے تو میرے راز کو رہنے دیا نہ راز میں کس کو اپنا راز بتاتا چلا گیا تب تک نظر میں ان کی میں اچھا بنا رہا جب تک کی ہاں میں ہاں میں ملاتا چلا گیا

itnaa nahin nazar ko hi bhaataa chalaa gayaa

غزل · Ghazal

مل جائے گی دنیا میں ہی جنت اسے کہنا کرتا رہے ماں باپ کی خدمت اسے کہنا اتنی سی کرے ہم پہ عنایت اسے کہنا لائے نہ محبت میں سیاست اسے کہنا وہ ساتھ رہے پر ہمیں عادت نہ بنائے ہوتی ہے بری چیز یہ عادت اسے کہنا کچھ روز کا مہمان ہے دیوانہ تمہارا اب ٹھیک نہیں رہتی طبیعت اسے کہنا جو فیصلہ کرنا ہے وہ ہم گھر میں کریں گے جائے نہ مرا بھائی عدالت اسے کہنا دشوار ہے ملنا تو کوئی بات نہیں ہے لیکن وہ ہمیں لکھتا رہے خط اسے کہنا کہنا کہ اسے آج بھی ہم یاد کرے ہیں ہے اب بھی ہمیں اس سے محبت اسے کہنا بس پیار سے اک بار مرا نام پکارے جب بھی ہو اسے میری ضرورت اسے کہنا لے جائے گا ہم راہ میں اعمال وہ اپنے رہ جائے گی دنیا میں ہی دولت اسے کہنا

mil jaaegi duniyaa mein hi jannat use kahnaa

Similar Poets