Saima Zaidi
تری ہنسی میں رنگ بھر رہی تھی میں کہ چاندنی کو پینٹ کر رہی تھی میں بدن کی لو میں دشت شب عبور کر وہ کہہ رہا تھا اور کر رہی تھی میں پھر اس کے بعد سے یہ دل ہے داغ داغ بس ایک رات چاند پر رہی تھی میں ترے جمال سے ادھر خلا نہ تھا ترے جمال سے ادھر رہی تھی میں مرے طواف میں تھی ساری کائنات کہ جب ترا طواف کر رہی تھی میں مجھے تراشتا تھا رات دن کوئی کسی کے واسطے سنور رہی تھی میں تری طلب نشہ تھا ایک عمر کا اتر رہا تھا جب تو مر رہی تھی میں ترا فراق جیسے عطر وصل تھا اور اس کے نم میں تربتر رہی تھی میں عجیب مرحلہ تھا کشف ذات کا میں روشنی تھی اور بکھر رہی تھی میں
tiri hansi mein rang bhar rahi thi main