
Sajid Ali
Sajid Ali
Sajid Ali
Ghazalغزل
pareshaan mujh ko aksar meri jaan maa'lum hoti hai
پریشاں مجھ کو اکثر میری جاں معلوم ہوتی ہے ہر اک روداد اپنی داستاں معلوم ہوتی ہے برستے آگ کے شعلوں کو کوئی کیوں نہیں مانے یہ دھرتی کیوں مجھے بے آسماں معلوم ہوتی ہے خدا اس انجمن میں جس طرف اٹھتی ہیں یہ آنکھیں تری تصویر ہر شے میں نہاں معلوم ہوتی ہے معمہ کیوں ہے ہر اک گام پر الجھے سوالوں کا مجھے یہ زندگی کیوں امتحاں معلوم ہوتی ہے نظر تیری مرا اب سامنا کرنے سے بچتی ہے ابھی شاید یہ مجھ سے بد گماں معلوم ہوتی ہے یہاں کمزور کے حق میں صدا کوئی نہیں اٹھتی یہ بستی مجھ کو شاید بے زباں معلوم ہوتی ہے کسی خاموش دریا کی ہے اس میں بے کسی شامل ندا یہ عرش تک مجھ کو رسا معلوم ہوتی ہے
ghar apnaa chhoD kar jaane kaa meraa man nahin kartaa
گھر اپنا چھوڑ کر جانے کا میرا من نہیں کرتا پھر اک بنجارہ بن جانے کا میرا من نہیں کرتا کسی رستے کے کھو جانے کا مجھ کو غم نہیں ہوتا کسی منزل کو اب پانے کا میرا من نہیں کرتا یہ سب کچھ خواب ہے دھوکا ہے یا کوئی فسانہ ہے معمہ کیا ہے سلجھانے کا میرا من نہیں کرتا تمہارے روز کے ان من گھڑت فتووں پہ واعظ جی کبھی اب غور فرمانے کا میرا من نہیں کرتا کما لوں نام میں بھی قیس اور فرہاد سا لیکن ستارے توڑ کر لانے کا میرا من نہیں کرتا
ai kaash apne saare jazbaat rok letaa
اے کاش اپنے سارے جذبات روک لیتا جس بات پر وہ روٹھے وہ بات روک لیتا تاریکیوں کا دن کی گر مجھ کو علم ہوتا مٹھی میں چاند کر کے میں رات روک لیتا آنے کی تیرے دل کو تھوڑی بھی آس ہوتی میں بادلوں سے کہہ کر برسات روک لیتا تم خواب بن کے میری گر انجمن میں آتے تاروں کی اپنے گھر میں بارات روک لیتا میرے بھی گر چمن میں فصل بہار آتی دامن میں خوشبوؤں کی سوغات روک لیتا





