SHAWORDS
Sajid Raheem

Sajid Raheem

Sajid Raheem

Sajid Raheem

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

dilon se khauf nikaalaa gayaa thaa bachpan mein

دلوں سے خوف نکالا گیا تھا بچپن میں ہمیں ہوا میں اچھالا گیا تھا بچپن میں میں اس لئے بھی سمجھتا ہوں ہجرتوں کا دکھ مجھے بھی گھر سے نکالا گیا تھا بچپن میں وہ اب کسی سے سنبھالے نہیں سنبھلتا ہے جسے زیادہ سنبھالا گیا تھا بچپن میں یہ صبر میری طبیعت میں ایسے آیا ہے ہر ایک بات پہ ٹالا گیا تھا بچپن میں تمہارے بعد مجھے تتلیوں سے خوف آیا اگرچہ شوق یہ پالا گیا تھا بچپن میں تمام عمر مری سوچ اس میں الجھی رہی میں جس فریب میں ڈالا گیا تھا بچپن میں اسی سے آج مرا اختلاف رہتا ہے میں جس کی طرز پہ ڈھالا گیا تھا بچپن میں بتاؤں کیا جو تعلق ہے پتھروں سے مرا انہیں بھی گھر میں ابالا گیا تھا بچپن میں

غزل · Ghazal

kaam aa kar bhi to har shakhs ke tanhaa honaa

کام آ کر بھی تو ہر شخص کے تنہا ہونا میں نہ کہتا تھا کہ اچھا نہیں اچھا ہونا ٹال دیتا ہوں بہانے سے سبھی لوگوں کو مجھ کو آیا نہ ترے بعد کسی کا ہونا تیرے حصے کی محبت تو تجھے ملنی تھی میرے ذمے تھا فقط اس کا وسیلہ ہونا ہائے کس کرب سے کہتی تھیں وہ خالی آنکھیں تم تو سمجھو گے مجھے تم تو مسیحا ہو نا لاکھ بہتر ہے زمانے کی خبر رکھنے سے ایک ہی شخص کے ہر دکھ سے شناسا ہونا

غزل · Ghazal

jhuuT kahte hain ki aavaaz lagaa saktaa hai

جھوٹ کہتے ہیں کہ آواز لگا سکتا ہے ڈوبنے والا فقط ہاتھ ہلا سکتا ہے اور پھر چھوڑ گیا وہ جو کہا کرتا تھا کون بد بخت تجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے راستہ بھولنا عادت ہے پرانی اس کی یعنی اک روز وہ گھر بھول کے آ سکتا ہے شرط اتنی ہے کہ تو اس میں فقط میرا ہو پھر تو اک خواب کئی بار دکھا سکتا ہے آنکھ بنتی ہے کسی خواب کا تانا بانا خواب بھی وہ جو مری نیند اڑا سکتا ہے اس نے کیا سوچ کے سونپا ہے کہانی میں مجھے ایسا کردار جو پردے بھی گرا سکتا ہے میرے رزاق سے کرتی ہے مری بھوک سوال کیا یہیں رزق کے وعدے کو نبھا سکتا ہے تم نہ مانو گے مگر میرے چلے جانے پر اک نہ اک روز تمہیں صبر بھی آ سکتا ہے

Similar Poets