
Sajid Safdar
Sajid Safdar
Sajid Safdar
Ghazalغزل
jab miri gardan pe us ne apnaa khanjar rakh diyaa
جب مری گردن پہ اس نے اپنا خنجر رکھ دیا لوگ اٹھے اور اس کے تاج سر پر رکھ دیا بوند ہی کافی تھی جب سیراب ہونے کے لیے خشک ہونٹوں پر یہ تم نے کیوں سمندر رکھ دیا اب بھٹکتے پھر رہے ہیں راحت جاں کے لیے یہ کمی اپنی ہے جو سب کچھ بھلا کر رکھ دیا کھا کے ٹھوکر آ گیا اب مجھ کو چلنے کا ہنر شکریہ تم نے جو میری رہ میں پتھر رکھ دیا سوچتا ہوں مر نہ جاؤں بوجھ سے دب کر کہیں آج اک کم ظرف نے احسان سر پر رکھ دیا طنزیہ لہجے میں ہم سے بات مت کیجے حضور ایسا لگتا ہے کسی نے دل پہ نشتر رکھ دیا جس طرح اخبار پڑھ کے کوئی رکھ دے اک طرف میں نے ساجدؔ اس طرح دنیا کو پڑھ کر رکھ دیا
ilm-o-fan kaa jo talabgaar nahin ho saktaa
علم و فن کا جو طلب گار نہیں ہو سکتا میرا دعویٰ ہے وہ فن کار نہیں ہو سکتا آج وہ عشق میں مرنے پہ بھی آمادہ ہے کل جو کہتا تھا مجھے پیار نہیں ہو سکتا جھوٹ بولا بھی تو معصوم کی جاں کی خاطر میں خطا وار گنہ گار نہیں ہو سکتا وہ یقیناً ہے مرے ساتھ مری رگ رگ میں اس کا دھوکا مجھے ہر بار نہیں ہو سکتا مجھ کو بستی کے سبھی لوگ دعا دیتے ہیں میرا رستہ کبھی دشوار نہیں ہو سکتا جو زمیں چھوڑ دے شہرت کے لیے پل بھر میں وہ بلندی کا تو حق دار نہیں ہو سکتا میں نے رکھا ہے بھرم اپنی زباں کا ساجدؔ میرا لہجہ کبھی تلوار نہیں ہو سکتا





