
Sajjad Syed
Sajjad Syed
Sajjad Syed
Ghazalغزل
جان سے اپنی گزرتا کون ہے سب کہا کرتے ہیں کرتا کون ہے ہے سبھی کو باغ جنت کی ہوس آتش دوزخ سے ڈرتا کون ہے دل کے ویرانے میں میرے شام سے روز یہ سجتا سنورتا کون ہے نیلگوں جھیلیں ہیں یا آنکھیں تری ڈوب کر ان میں ابھرتا کون ہے کچھ حسیں چہرے نظر آئے تو ہیں دیکھیے دل میں اترتا کون ہے خاک میں اک روز مل جاتے ہیں سب خوشبوئیں بن کر بکھرتا کون ہے
jaan se apni guzartaa kaun hai
رنگ پریدہ زلف پریشاں چشم غزالاں حیراں حیراں گیسوئے مشکیں شب کی سیاہی صورت خنداں ماہ تاباں پہلی پہلی بار ملے تو وہ بھی ناداں ہم بھی ناداں ان کا وہ اظہار محبت تھوڑا ظاہر تھوڑا پنہاں ان کی حالت وقت رخصت ہونٹ لرزتے آنکھیں گریاں ان کا اچانک ترک تعلق مری شکست و ریخت کا ساماں مل جاتے ہیں راہے گاہے نادم نادم خود سے پشیماں عشق کی چشم یاس کا عالم پر نم پر نم سوزاں سوزاں سیدؔ ہجر میں یوں جیتے ہیں کوئی ہے خواہش اور نہ ارماں
rang parida zulf pareshaan
رخ پہ حیا کا رنگ شہابی نقاب سا اظہار کے لبوں پہ لرزتا حجاب سا چہرہ کہ جیسے ایک صحیفہ ہو نور کا لہجہ نئی غزل کی نویلی کتاب سا صدیوں کی فرقتوں میں مجھے قید کر گیا وہ لمحۂ وصال کہ تھا جو سراب سا میں تھا حصار ذات کی خاموشیوں میں گم چھیڑا ہے آج کس نے یہ دل کا رباب سا صدیوں کی اک طویل رفاقت کے باوجود ہیں وہ ہی فاصلے سے وہی اجتناب سا وہ پچھلے انقلاب ہی کیا دے گئے ہمیں اک لاؤ انقلاب جو ہو انقلاب سا سجادؔ اپنے ہوش و خرد کو بچائیو ساقی بنا ہوا ہے جو خود ہے شراب سا
rukh pe hayaa kaa rang-e-shahaabi naqaab saa
ستم تو کرتا ہے لیکن دعا بھی دیتا ہے مرا حریف مجھے حوصلہ بھی دیتا ہے ہے جس کا ایک تبسم قرار جاں اپنا اسی کا طرز تغافل رلا بھی دیتا ہے بجا کہ ہجر کا عالم عذاب ہے یارو مگر یہ عرصۂ فرقت مزا بھی دیتا ہے ہے دل نواز غضب کا مگر یہ شعلۂ عشق کبھی شگوفۂ دل کو جلا بھی دیتا ہے کبھی ہے موت میں پنہاں نجات کا پہلو کبھی وہ زیست کی صورت سزا بھی دیتا ہے
sitam tu kartaa hai lekin duaa bhi detaa hai





