SHAWORDS
Salahuddin Nayyar

Salahuddin Nayyar

Salahuddin Nayyar

Salahuddin Nayyar

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

فصیل شہر کو جب تک گرا نہیں دیں گے ہمیں یہ لوگ کبھی راستہ نہیں دیں گے تمام عمر جو چہرے کو اپنے پڑھ نہ سکے ہم ان کے ہاتھوں میں اب آئنہ نہیں دیں گے گھٹن ہو ایسی کہ تم کھل کے سانس لے نہ سکو تمہیں ہم اس سے زیادہ سزا نہیں دیں گے تجھے ڈبوئیں گے خود تیرے حاشیہ بردار ہم اپنی راہ سے تجھ کو ہٹا نہیں دیں گے یہ بزم شعر و ادب کب کسی کی ہے میراث جو نسل گونگی ہو ہم جائزہ نہیں دیں گے وہ جن کے نام سے ہم زہر پی گئے نیرؔ ہم ان کے حق میں کبھی بد دعا نہیں دیں گے

fasil-e-shahr ko jab tak giraa nahin deinge

غزل · Ghazal

یہ ان کی گلی ہے باد صبا آہستہ گزر آہستہ گزر یہ راہ وفا ہے راہ وفا آہستہ گزر آہستہ گزر اے رہرو الفت آ پہنچی وہ شہر نگاراں کی سرحد آتی ہے شکست دل کی صدا آہستہ گزر آہستہ گزر اے نکہت گل اس محفل میں آزردہ نہ ہو آزردہ نہ ہو ملتی ہے یہاں خوشبوئے وفا آہستہ گزر آہستہ گزر دو پھول چڑھا یا اشک بہا کچھ فرق نہیں پڑتا ساتھی چلتی ہے یہیں سے رسم وفا آہستہ گزر آہستہ گزر اے ابر سیہ اتنا نہ مچل چلنا ہے تو دھیرے دھیرے چل وہ سامنے ہے زلفوں کی گھٹا آہستہ گزر آہستہ گزر اے محرم خلوت موج صبا جذبات محبت عام نہ کر ہو جائے نہ گل پھر شمع وفا آہستہ گزر آہستہ گزر کتنے ہی پتنگے جلتے ہیں بے نام سہی گمنام سہی اے رسم محبت دیکھ ذرا آہستہ گزر آہستہ گزر مانوس بھی ہوں مانوس نہیں آواز یہ کس کی ہے نیرؔ کانوں میں کبھی آتی ہے صدا آہستہ گزر آہستہ گزر

ye un ki gali hai baad-e-sabaa aahista guzar aahista guzar

غزل · Ghazal

کتنے حسین خواب حقیقت پسند ہیں کتنے تصورات نگاہوں میں بند ہیں اپنی نظر سے کوئی ہمیں کیا گرائے گا ہم اہل درد اپنی نظر میں بلند ہیں کچھ تو بتائیے سبب دل گرفتگی بزم وفا میں آج بھی ہم جیسے چند ہیں کتنی کشاکشوں سے رہا سابقہ مگر اپنی روش پہ آج بھی ہم کار بند ہیں ارباب عشق کو بھی ہے دیوانگی پہ ناز ہونے دو اہل حسن اگر عقل مند ہیں ہے آج بزم شوق میں خوشبو بسی ہوئی پھولوں سے کس کے گوندھے ہوئے بازو بند ہیں نیرؔ بیان درد سے کچھ فائدہ نہیں یہ اہل بزم اتنے کہاں درد مند ہیں

kitne hasin khvaab haqiqat-pasand hain

Similar Poets