SHAWORDS
Salma Hijab

Salma Hijab

Salma Hijab

Salma Hijab

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

جینا کیا ہے حباب ہو جانا اک حقیقت کا خواب ہو جانا عشق ہے سلسلہ سوالوں کا اور وفا لا جواب ہو جانا بارہا محفلوں نے دیکھا ہے خامشی کا رباب ہو جانا یہ کرشمہ ہے زر نوازی کا ان کا تم سے جناب ہو جانا جنبش فکر کی یہی حد ہے بس عذاب و ثواب ہو جانا جب وہ گوہر شناسیاں نہ رہیں اے گہر پھر سے آب ہو جانا تشنگی امتحان لیتی ہے اے ندی تو سراب ہو جانا اٹھ گئی اس طرف نظر ان کی اے تمنا حجابؔ ہو جانا

jiinaa kyaa hai habaab ho jaanaa

غزل · Ghazal

گردش دوراں بتا کیوں تجھ کو حیرانی نہیں وقت گزرا جا رہا ہے پھر بھی وہ فانی نہیں جذب ہو کر رہ گیا ہے ایک دریا ریت میں لاکھ طوفاں ہیں وہیں پر اب جہاں پانی نہیں راستے بھٹکے ہوئے ہیں منزلیں گمراہ ہیں اب ہجوم کارواں کو خوف ناکامی نہیں جب جہان آگہی کا ہر سفر ہے ناتمام اے خرد کیوں دل کی تو نے ایک بھی مانی نہیں تیرے میرے درمیاں ہے ایک مدت سے حجابؔ زندگی صورت بھی تیری جانی پہچانی نہیں

gardish-e-dauraan bataa kyon tujh ko hairaani nahin

غزل · Ghazal

رواں ہے وقت روانی میں آب جیسا ہے ٹھہر نہ پایا کہیں بھی حباب جیسا ہے سکون قلب کی مانگیں دعا تو کیوں مانگیں سکون قلب اگر اضطراب جیسا ہے لہو کا رنگ بہاروں میں ڈھل گیا جب سے ہر ایک داغ جگر کا گلاب جیسا ہے ہر ایک قلب صحیفہ ہے احترام کرو ہر ایک چہرے کو پڑھ لو کتاب جیسا ہے روایتوں پہ محبت کی اب یقین نہیں محبتوں کا نظارا سراب جیسا ہے الجھ رہا ہے حقیقت سے روز جو سلمیٰؔ اسے خبر نہیں وہ خود بھی خواب جیسا ہے

ravaan hai vaqt ravaani mein aab jaisaa hai

غزل · Ghazal

سکون دل کو مرا اضطراب کیا جانے شکست خواب کو تعبیر خواب کیا جانے وہ منکشف ہے ابھی صرف دشت و صحرا پر جو کیف تشنہ لبی ہے وہ آب کیا جانے نشاط سجدہ سے جس کو غرض ہے وہ بندہ جھکا دے سر تو عذاب و ثواب کیا جانے وہ زندگی سے ادا سیکھتا ہے جینے کی تمام چہرے جو پڑھ لے کتاب کیا جانے اسیر شوق تو اذن سفر کا طالب ہے مقام عیش کو خانہ خراب کیا جانے

sukun-e-dil ko miraa iztiraab kyaa jaane

غزل · Ghazal

زندگی روٹھی تو پھر ہم سے منائی نہ گئی جب اندھیرا ہوا اک شمع جلائی نہ گئی جیسے ٹھہرے ہوئے پانی پہ مکاں ہو اپنا یاد رفتہ ہے عجب آئی تو آئی نہ گئی میں فلک چھو لوں تو قدموں سے زمیں جاتی ہے اک نئی دنیا خلاؤں میں بسائی نہ گئی جانے کیسا ہے مرے دست ہنر پر یہ عذاب رنگ یوں بکھرے کہ تصویر بنائی نہ گئی ایک ٹھوکر سے قبا گل کی بکھیرے گی ہوا ان کی خوشبو بھی سلیقے سے چرائی نہ گئی بے اثر آج بھی ہے زلف پریشاں کا فسوں یوں ہی بکھری رہی زنجیر بنائی نہ گئی بات بن جاتی مری ایک ہی پل میں سلمیٰؔ کیا کریں بات مگر ہم سے بنائی نہ گئی

zindagi ruThi to phir ham se manaai na gai

Similar Poets