SHAWORDS
Salma Shaheen

Salma Shaheen

Salma shaheen

Salma shaheen

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

تھی یہ امید کہ وہ لوٹ کے گھر آئے گا کیا خبر تھی کہ بہ انداز دگر آئے گا کئی زخموں کے کھنڈر اب بھی ہیں میرے دل پر جب کریدو گے نیا رنگ ابھر آئے گا مسکرائے گی جب آنکھوں میں ستاروں کی لڑی آئنہ بن کے حسیں خواب نظر آئے گا جب بھی لہرائے گی پلکوں پہ تری یاد کی شام دل کی وادی میں نیا چاند اتر آئے گا دل کی راہوں کا مقدر ہے سرابوں کا سفر جو بھی آئے گا یہاں خاک بسر آئے گا سنگ باروں کی یہ بستی ہے یہاں اے شاہین کون ہے لے کے جو شیشے کا جگر آئے گا

thi ye ummid ki vo lauT ke ghar aaegaa

غزل · Ghazal

شکار ہو گیا وہ خود ہی اس زمانے کا جواز ڈھونڈ رہا تھا مجھے مٹانے کا یہ امتحان فن آذری سے ہے منسوب تراش لیجئے پتھر کوئی ٹھکانے کا کبھی رہا تو نہیں گردش فلک کا ساتھ کہاں سے سیکھا ہے تم نے ہنر ستانے کا مرے خلوص کا جس کو نہ اعتبار آیا فریب کھاتا رہا عمر بھر زمانے کا جو اہل دل ہیں وہی آزمائے جاتے ہیں عجیب رنگ ہے قدرت کے کارخانے کا جو اعلیٰ ظرف ہیں معلوم ہے انہیں شاہینؔ سلیقہ چاہئے انساں کو غم اٹھانے کا

shikaar ho gayaa vo khud hi is zamaane kaa

غزل · Ghazal

مسئلہ حسن تخیل کا ہے نہ الہام کا ہے یہ فسانہ ذرا مشکل دل ناکام کا ہے رات دن پہروں پہر اس کی ادا کے چرچے یہ تماشہ بھی مرے واسطے کس کام کا ہے مسکرانے لگے ہر سمت محبت کے چراغ تیرے چہرے کا تصور بھی بڑے کام کا ہے سونی سونی تھیں جو آنکھیں وہ دوبارہ ہنس دیں نظر آیا ہے جو منظر وہ اسی شام کا ہے اس تعلق کا کوئی رنگ نہ ڈھلنے پایا تذکرہ شعروں میں اب بھی اسی گلفام کا ہے لے اڑیں زرد ہوائیں مرے گھر سے خوشبو بام و در کیا ہیں دریچہ مرے کس کام کا ہے فصل ہو جائے تو بڑھتی ہے خوشی سے دوری آپ کا قرب یہ سچ ہے بڑے آرام کا ہے

masala husn-e-takhyyul kaa hai na ilhaam kaa hai

غزل · Ghazal

اے جان جاں ترے مزاج کا فلک بھی خوب ہے تھکے تھکے سے بام پر حسیں دھنک بھی خوب ہے عجیب سحر ہے ترے حروف پاکباز میں ترے مزاج شعلہ بار کی لپک بھی خوب ہے ترے لباس میں بسی ہیں جاں نواز خوشبوئیں مشام جاں ہے عطر بیز یہ مہک بھی خوب ہے نہیں ہے معتبر جو اپنا وصف خود بیاں کرے اے جان اعتبار اس پہ تیرا شک بھی خوب ہے تجھے میں مانتی ہوں ہے ترا شعور معتبر تری حسین فکر کی چمک دمک بھی خوب ہے پسند ہیں نظر نظر کو جاں تری وجاہتیں ملیح رخ کی یہ چمک نمک دمک بھی خوب ہے سماعتوں میں ہونے لگتی ہے عجیب روشنی تری صدائے نور کی لپک جھپک بھی خوب ہے

ai jaan-e-jaan tire mizaaj kaa falak bhi khuub hai

غزل · Ghazal

دھوپ پیچھا نہیں چھوڑے گی یہ سوچا بھی نہیں ہم وہاں ہیں جہاں دیوار کا سایہ بھی نہیں جانے کیوں دل مرا بے چین رہا کرتا ہے ملنا تو دور رہا اس کو تو دیکھا بھی نہیں آپ نے جب سے بدل ڈالا ہے جینے کا چلن اب مجھے تلخیٔ احباب کا شکوہ بھی نہیں مے کدہ چھوڑے ہوئے مجھ کو زمانہ گزرا اور ساقی سے مجھے دور کا رشتہ بھی نہیں دام میں رکھتا پرندوں کی اڑانیں لیکن پر کترنے کا مگر اس کو سلیقہ بھی نہیں مسکراہٹ میں کوئی طنز بھی ہو سکتا ہے یہ مسرت کی علم دار ہو ایسا بھی نہیں لاکھ یادوں کی طرف لوٹ کے جاؤں شاہینؔ پردۂ دل پر اب اس شخص کا چہرہ بھی نہیں

dhuup pichhaa nahin chhoDegi ye sochaa bhi nahin

Similar Poets