Salman Kazmi
میں کیوں کہوں کہ کسی چہرگی سے عشق کرو جو بات کا ہو دھنی بس اسی سے عشق کرو جہالتوں کے اندھیرے سے توڑ دو رشتہ علوم و فن کی فقط روشنی سے عشق کرو کسی غریب کی غربت پہ مت ہنسو لیکن رلا دے ظلم کو جو اس ہنسی سے عشق کرو نہاں ہو جس میں اے لوگو حبیب کی سیرت تو تم پہ فرض ہے اس دوستی سے عشق کرو جو عشق عبد سے معبود تک تمہیں لے جائے قسم زلیخا کی اس عاشقی سے عشق کرو وہ جس سے آتی ہو سلمانؔ بوئے حق ہر دم تمہیں بھی چاہئے بس اس کلی سے عشق کرو
main kyuun kahun ki kisi chehragi se 'ishq karo