Salman Sarwat
ہزار رنگ یہ وحشت قدم قدم پہ کھلی کہ زندگی کی حقیقت قدم قدم پہ کھلی مرے وجود کا عقدہ کبھی بھی کھل نہ سکا مرے خیال کی وسعت قدم قدم پہ کھلی صراط جاں پہ ہمیشہ سفر طلب ہی رہے مسافتوں سے عقیدت قدم قدم پہ کھلی وفا کی راہ میں چپ چاپ چلتے رہنے سے گریز کوش محبت قدم قدم پہ کھلی دیار عشق میں ہم پر کرم کچھ ایسے ہوا وصال غم کی سہولت قدم قدم پہ کھلی وہ ایک لفظ کہ جس پر بدل گیا لہجہ اس ایک لفظ کی شدت قدم قدم پہ کھلی تمام عمر سرابوں کی جستجو میں کٹی کبھی نہ تھی جو ضرورت قدم قدم پہ کھلی
hazaar rang ye vahshat qadam qadam pe khuli