SHAWORDS
Saltanat Qaisar

Saltanat Qaisar

Saltanat Qaisar

Saltanat Qaisar

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

خشک آنکھوں کو تر کیا جائے بارشوں میں سفر کیا جائے تم ملو تو کسی بہانے سے زندگی کو بسر کیا جائے تھام لی جائے خواب کی زنجیر رات کو بے سحر کیا جائے یاد کرنا تجھے بھلا دینا بس یہی عمر بھر کیا جائے بے خبر ہے جو اک زمانے سے کیوں اسے باخبر کیا جائے اتنی تنہائی ہے اداسی ہے یاد تجھ کو اگر کیا جائے

khushk aankhon ko tar kiyaa jaae

غزل · Ghazal

آنکھ سے جب خواب کا قطرہ گرا میرے خالی ہاتھ پر لمحہ گرا بھول جائیں گی ہوائیں راستہ پیڑ سے جب آخری پتہ گرا پھر نیا موسم کوئی تخلیق کر زردیٔ تصویر پر سبزہ گرا رنگ میرے وہ اٹھا کر لے گیا کینوس پر رہ گیا نقطہ گرا ہو گئے بے سمت سارے فاصلے اب مرے پیروں میں وہ رستہ گرا

aankh se jab khvaab kaa qatra giraa

غزل · Ghazal

گونجتی ہے یہ کیا صدا مجھ میں کھو گیا کس کا راستہ مجھ میں حرف تھا تیرے پیاسے ہونٹوں کا گھل گیا جس کا ذائقہ مجھ میں میں اندھیرا مکان ہوں آ کر تو کوئی طاق ہی بنا مجھ میں اپنی آنکھیں بھی مجھ میں چھوڑ گیا جس نے دیکھا تھا آئنہ مجھ میں جا چکا تیرے آسمانوں کو جو پرندہ تھا اڑ رہا مجھ میں

gunjti hai ye kyaa sadaa mujh mein

غزل · Ghazal

ہوا سے بات کرنے کے لئے تھا چراغ شب بکھرنے کے لئے تھا جسے تم اور گہرا کر رہے ہو وہی تو زخم بھرنے کے لئے تھا وہ واپس لوٹ کے آیا نہیں ہے برس یوں ہی گزرنے کے لئے تھا وہ چہرہ بھولتا جاتا ہے مجھ کو جو کینوس پر اترنے کے لئے تھا مرا خاموش ہو جانا اچانک شکایت تم سے کرنے کے لئے تھا نئے موسم سے میرا شام ملنا تری امید کرنے کے لئے تھا اک ایسا حادثہ بھی ہو چکا ہے جو کافی اس کے مرنے کے لئے تھا

havaa se baat karne ke liye thaa

Similar Poets