Sana Gorakhpuri
Sana Gorakhpuri
Sana Gorakhpuri
Ghazalغزل
uThaa khema yahaan se kuuch kar aahista aahista
اٹھا خیمہ یہاں سے کوچ کر آہستہ آہستہ ابھی تو خیر ممکن ہے سفر آہستہ آہستہ دریچوں کی ابھی تو روشنی گلیوں میں باقی ہے مگر جب بند ہو جائیں گے در آہستہ آہستہ بیابانوں سے نکلے اور سمندر تک چلے آئے کہ اب کرنا ہے پانی کا سفر آہستہ آہستہ ادھر سے قیس ہی کیا ایک پوری قوم گزری ہے یہ بیٹھے گا غبار رہ گزار آہستہ آہستہ یہاں اک دوسرے کی جان کے دشمن نہ ہو جائیں یہ ہم دونوں نکل آئے کدھر آہستہ آہستہ ابھی کچھ بستیاں آباد ہیں کچھ شہر باقی ہیں ابھی کچھ اور نکلیں گے کھنڈر آہستہ آہستہ در و دیوار کے اس پار ہم سایوں کو نیند آئی شب تنہائی مجھ سے بات کر آہستہ آہستہ ابھی بے تیغ بھی زندہ ہوں لیکن میرے ہاتھوں سے ثناؔ اب چھوٹ جائے گی سپر آہستہ آہستہ
udaas tum hi nahin ho hayaat hai shaayad
اداس تم ہی نہیں ہو حیات ہے شاید تھکی تھکی سے کہیں کائنات ہے شاید رکی رکی سی یہ سانسیں جھکی جھکی سی نگاہ اس ایک بات میں اک اور بات ہے شاید میں تم کو جیت رہا ہوں تمہیں پتا ہی نہیں یہ اور بات کہ میری ہی مات ہے شاید کہاں کا عشق مگر اس کو کون سمجھائے پری خصال فرشتہ صفات ہے شاید زمین جاگی ہوئی ہے زمانہ جاگا ہوا کہ آج رات کوئی واردات ہے شاید ہر ایک گام پہ روشن کرو دئے سے دیا طلوع صبح سے پہلے نجات ہے شاید ابھی تو شمع سے شبنم بنے گی آنکھ ثناؔ ابھی تو ایک پہر اور رات ہے شاید
duniyaa ye sahi adu bahut hai
دنیا یہ سہی عدو بہت ہے میرے لیے ایک تو بہت ہے آبادیٔ ہم زباں ہے لیکن محتاجیٔ گفتگو بہت ہے اک حاصل جستجو میں شاید لا حاصل جستجو بہت ہے آساں نہیں ساتھ عمر بھر کا اندیشۂ من و تو بہت ہے ایسا ہے کہ ان دنوں تمہاری تصویر سے گفتگو بہت ہے چھوڑے گا وہ لے کے جان اک دن اک دوست ہے سو عدو بہت ہے جل اٹھتی ہیں شام ہی سے شمعیں آنکھوں میں مری لہو بہت ہے دنیا نہیں جانتی ثناؔ کو رسوا سہی سرخ رو بہت ہے
koi jaadu jagaanaa chaahtaa huun
کوئی جادو جگانا چاہتا ہوں تمہیں اپنا بنانا چاہتا ہوں اگر اک بار تم آواز دے دو تو میں بھی لوٹ آنا چاہتا ہوں تمہارے شہر میں ڈوبا ہے سورج مسافر ہوں ٹھکانا چاہتا ہوں تمہیں کو جیتنے کی آرزو ہے تمہیں سے ہار جانا چاہتا ہوں تمہارے ساتھ اس دنیا سے کچھ دور نئی دنیا بسانا چاہتا ہوں دکھوں سے کون دنیا میں بچا ہے مگر تم کو بچانا چاہتا ہوں نہایت تیز ہیں دریا کی موجیں مگر اس پار جانا چاہتا ہوں ابھی کچھ لوگ ہیں اس پار میرے بچا کر ان کو لانا چاہتا ہوں یہیں ہاتھوں سے چھوٹی تھی کلائی یہیں اب ڈوب جانا چاہتا ہوں لہو دینے کا موسم جا چکا ہے اب اپنا آب و دانہ چاہتا ہوں اسی شیشے سے جو ٹوٹا ہوا ہے میں اک خنجر بنانا چاہتا ہوں ثناؔ اس محفل شعر و سخن میں غزل میں بھی سنانا چاہتا ہوں





