
Sanchit Pandey
Sanchit Pandey
Sanchit Pandey
Ghazalغزل
main ghar vaalon se bach kar mil rahaa thaa
میں گھر والوں سے بچ کر مل رہا تھا مگر اس سے برابر مل رہا تھا بچھڑ جانے کا غم تو تھا مجھے پر میں سب سے مسکرا کر مل رہا تھا کبھی جن میں تھے میں نے پھول سونپے انہیں ہاتھوں سے پتھر مل رہا تھا
zamaane mein teraa badal kuchh nahin hai
زمانہ میں تیرا بدل کچھ نہیں ہے تمہارے بنا یہ غزل کچھ نہیں ہے نہ گھر والے ہی ہیں نہ پہرہ کسی کا صنم گھر سے باہر نکل کچھ نہیں ہے قسم جینے مرنے کی تھی ساتھ میں سو تمہارے بنا پاسبل کچھ نہیں ہے بہت ٹوٹ کر درد سے یہ کہا کہ بدن چھوڑ کر اب نکل کچھ نہیں ہے
zindagaani kaa safar halkaan hai tere baghair
زندگانی کا سفر ہلکان ہے تیرے بغیر ہر گلی ہر راستہ سنسان ہے تیرے بغیر لوٹ آؤ اس قدر ناراضگی اچھی نہیں کون اس دنیا میں میری جان ہے تیرے بغیر یاں کہ تیرے بعد رہتی ہیں فقط مایوسیاں گھر کا ہر کونا صنم ویران ہے تیرے بغیر





