
Sanjar Ghazipuri
Sanjar Ghazipuri
Sanjar Ghazipuri
Ghazalغزل
pahle thaa koi ki thi jis se mohabbat mujh ko
پہلے تھا کوئی کہ تھی جس سے محبت مجھ کو بخدا اب تو کسی سے نہیں الفت مجھ کو خوبرو اب تو نظر میں کوئی جچتا ہی نہیں بھا گئی جب سے تری سانولی صورت مجھ کو وعدہ آنے کا ہے کل دیکھو ذرا آ جانا ورنہ بے چپن کرے گی شب فرقت مجھ کو غیر سے آٹھ پہر آپ ملا کرتے ہیں ہے یہ اندھیر دکھاتے نہیں صورت مجھ کو جب سے تعریف میں کرتا ہوں پیمبر سنجرؔ نظر آنے لگی ان آنکھوں سے جنت مجھ کو
us ne bhari mahfil ko divaana banaa Daalaa
اس نے بھری محفل کو دیوانہ بنا ڈالا خود شمع بنا سب کو پروانہ بنا ڈالا دل اپنا محمد کا کاشانہ بنا ڈالا اجڑے ہوئے اس گھر کو شاہانہ بنا ڈالا وحدت کی پلا کر مے اس ساقیٔ کوثر نے اک عالم کثرت کو مستانہ بنا ڈالا دکھلا کے جھلک اپنی اللہ نے موسیٰ کو دیوانہ بنا ڈالا پروانہ بنا ڈالا چلو سے پلا ساقی پیمانہ نہیں تو کیا ہم نے انہیں ہاتھوں کو پیمانہ بنا ڈالا اب یاد مرے دل میں ہر وقت بتوں کی ہے اللہ کا گھر میں نے بت خانہ بنا ڈالا سنجرؔ کو خبر اپنی کچھ بھی نہیں وحشت میں الفت نے اسے ایسا دیوانہ بنا ڈالا
ban-sanvar kar jo vo nikalte hain
بن سنور کر جو وہ نکلتے ہیں دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں جب وہ غیروں کے ساتھ چلتے ہیں مونگ چھاتی پہ میری دلتے ہیں ناتواں جبکہ راہ چلتے ہیں کہیں گرتے کہیں سنبھلتے ہیں ایک بوسے کے ہم تو سائل ہیں بے لئے کب یہاں سے ٹلتے ہیں بن سنور کر وہ ناز سے سنجرؔ دل لبھانے کی چال چلتے ہیں





