Sanjay Shukla Talkh
میں طلسماتی سے اک جنگل میں ہوں جن ہے باہر اور میں بوتل میں ہوں کیسے ہوگا حسن تیرا کاٹ دار جب نہ میں بندی نہ میں کاجل میں ہوں ہر قدم پر یاد آؤں گا تجھے بن کے کانٹا میں تری چپل میں ہوں سرد راتیں کیا بگاڑیں گی بھلا میں ترے احساس کے کمبل میں ہوں جم کے برسوں گا میں اک دن دیکھنا ان دنوں تو قید میں بادل میں ہوں دار کی تیاریوں میں دیر ہے میں تو کب سے منتظر مقتل میں ہوں ڈھونڈھتے ہو تلخؔ برسوں میں مجھے میں چھپا بیٹھا یہاں اس پل میں ہوں
main tilsmaati se ik jangal mein huun