SHAWORDS
Santosh Purswani Sant

Santosh Purswani Sant

Santosh Purswani Sant

Santosh Purswani Sant

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

kab se huun muntazir ki bulaa le qazaa mujhe

کب سے ہوں منتظر کہ بلا لے قضا مجھے پر چھوڑتی نہیں یہ بدن کی قبا مجھے اپنے لبوں پہ سر کی طرح تو سجا مجھے نغمہ ہوں تیرے پیار کا تو گنگنا مجھے میں نے ہی تجھ سے ترک کیے تھے تعلقات اب خوں رلا رہا ہے مرا فیصلہ مجھے دیپک کی طرح کب سے ترے انتظار میں جل جل کے تھک گیا ہوں تو آ کر بجھا مجھے باہر سے ہنس رہا ہوں مگر تیرے ہجر نے اندر سے کر دیا ہے بہت کھوکھلا مجھے مدت کے بعد گھر جو میں آیا ہوں لوٹ کر حیرت سے دیکھتا ہے بہت آئنہ مجھے روتا ہوں جاگتا ہوں سسکتا ہوں رات بھر کس جرم کی ملی ہے یہ آخر سزا مجھے جی چاہتا ہے چیخ پڑوں اپنے حال پر خاموشیاں نہ کر دے کہیں بے صدا مجھے رغبت سی ہو گئی ہے کچھ اپنے ہی مرض سے اے چارہ گر نہ دے تو کوئی اب دوا مجھے میرا اکیلا پن ہی مجھے مار ڈالتا ملتا نہ شاعری کا اگر آسرا مجھے دور حیات نے تو نہ چھوڑی کسر کوئی اک سنتؔ تھا جو دیتا رہا حوصلہ مجھے

غزل · Ghazal

jiine kaa bas ek sahaaraa vo laDki

جینے کا بس ایک سہارا وہ لڑکی میں ہوں ٹوٹی ناؤ کنارا وہ لڑکی جان ہتھیلی پر رکھ کر میں جاتا تھا جب کرتی تھی ایک اشارہ وہ لڑکی اور کسی سے ملنے ہی کب دیتی تھی یوں رکھتی تھی دھیان ہمارا وہ لڑکی چھوڑ گئی ساحل کے حوالے تنہا ہی ریت پہ لکھ کر نام ہمارا وہ لڑکی وہ آئے تو کل جگ روشن ہو جائے سورج جگنو چاند ستارا وہ لڑکی تاج محل کی زینت بھی ہے خوب مگر تاج سے پیارا ایک نظارہ وہ لڑکی کنگن جھمکے بالی پائل بندیا کیا گھر بھی لے گئی ساتھ میں سارا وہ لڑکی خوشیوں میں ان ہونٹوں کی مسکان تھی وہ غم میں ہے اشکوں کی دھارا وہ لڑکی میں نے دل سے پوچھا تیری دھڑکن کون دل کا ہر اک تار پکارا وہ لڑکی روز دعاؤں میں مانگا دن رات یہی پھر مل جائے مجھ کو خدارا وہ لڑکی سوچ تو لے کیا کہنا ہے کیا سننا ہے سنتؔ اگر مل جائے دوبارہ وہ لڑکی

غزل · Ghazal

kabhi duniyaa mein aisaa moajiza ho hi nahin saktaa

کبھی دنیا میں ایسا معجزہ ہو ہی نہیں سکتا نہیں جو آپ کا وہ آپ کا ہو ہی نہیں سکتا اگر غم میں بھی پہلو سکھ کا کوئی ڈھونڈ لیں ہم تو سفر پھر زندگی کا بے مزا ہو ہی نہیں سکتا جو نا ممکن ہو اس میں بھی یہ گنجائش کریں پیدا خیالوں کا تو کوئی دائرہ ہو ہی نہیں سکتا وہ مجھ سے دور رہ کر بھی مری دھڑکن پہ ہے قابض یہ ایسا کرب ہے جو فاصلہ ہو ہی نہیں سکتا تصور کی مدد سے روز اک تصویر بنتا ہوں کہ بہتر اس سے کوئی مشغلہ ہو ہی نہیں سکتا تجھے منزل کی حسرت ہے مجھے رخت سفر پیارا جو تیرا ہے وہ میرا راستہ ہو ہی نہیں سکتا کل آئینہ نے میری دیکھ کر صورت کہا مجھ سے ترے جیسا تو تنہا دوسرا ہو ہی نہیں سکتا امیر شہر کی اندھی عدالت میں یہ طے سمجھو کسی مفلس کے حق میں فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا ٹھکانے روز ہی خوشیاں بدلتی رہتی ہیں لیکن فقط اک درد ہے جو لاپتہ ہو ہی نہیں سکتا کسی ماں کی طرح میرا غزل نے ہاتھ تھاما ہے یہ ہے وہ قرض جس کا حق ادا ہو ہی نہیں سکتا وہ جس دھرتی پہ صوفی سنتؔ ہر دم ساتھ رہتے ہوں محبت کا وہاں سے خاتمہ ہو ہی نہیں سکتا

Similar Poets