
Sarfaraz Bazmi
Sarfaraz Bazmi
Sarfaraz Bazmi
Ghazalغزل
کبھی سوئے دشت نکل پڑے کبھی سوئے دار چلے گئے تری چاہ میں نہ کہاں کہاں ترے بے قرار چلے گئے جو کتاب دل میں تھی پنکھڑی کسی سر کشیدہ گلاب کی وہ دبی رہی تو ورق ورق ہوئے لالہ زار چلے گئے انہیں کام تھا ترے کام سے ترے ذکر سے ترے نام سے وہ جو آبلہ پا برہنہ پا سر دشت خار چلے گئے نہ وہ دھڑکنیں نہ وہ الجھنیں نہ وہ وسوسے نہ وہ قہقہے ترے عہد میں دل زار کے سبھی اختیار چلے گئے مرے پیرہن کی گواہیاں نہ سنی گئیں نہ لکھی گئیں کہ زنان مصر کی بات پر ہی عزیزدار چلے گئے نہ وہ رسم جامہ دری رہی نہ مزاج بخیہ گری رہا وہ جنوں شعار کہاں رہے وہ کرم نثار چلے گئے جو نہ دیر میں نہ حرم میں تھے جو اسیر حلقۂ غم میں تھے وہ نوائے درد پہ نغمہ خواں ترے شب گزار چلے گئے میں سکوت دامن دشت سے جہاں گفتگو میں مگن رہا وہاں جھیل تھک کے رکی رہی مگر آبشار چلے گئے ترا درد بزمیؔٔ ناتواں نہ ادھر سنا نہ ادھر سنا کہ دیار نکہت و نور سے ترے غم گسار چلے گئے
kabhi su-e-dasht nikal paDe kabhi su-e-daar chale gae
کوئی حادثہ کوئی واقعہ نہ کہا ہوا نہ سنا ہوا وہی چوٹ دل پہ لگی ہوئی وہی درد تیرا دیا ہوا اسے پیش کر مرے نامہ بر یہ تھکی تھکی مری چشم تر یہی ایک نامۂ مختصر نہ لکھا ہوا نہ پڑھا ہوا ترا خط ہے یا کوئی زخم دل کہیں مندمل کہیں مستقل کہیں خون دل سے لکھا ہوا کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا کوئی محو حسن و جمال تھا کہ کمال شوق وصال تھا لب اوج سدرۂ منتہیٰ نہ رکا ہوا نہ تھکا ہوا ترے مدرسوں میں کہاں رہی وہ دل و ضمیر کی روشنی تیری خانقاہ سے بو ذری کا جلال کب کا ہوا ہوا وہی بت فروشی و بت گری وہی جرم شیوۂ آذری وہی سامری وہی ساحری وہی طور سر پہ اٹھا ہوا یہ شرر شرر رہ پر خطر یہ شکستہ پر یہ قفس کا ڈر کبھی اس کے در کبھی اس کے در کبھی در بدر سا کیا ہوا وہ حکایتیں وہ شکایتیں نہ کہی ہوئی نہ سنی ہوئی یہ جنوں کی آہ فلک رسا وہ چراغ حسن بجھا ہوا اسے راس آ نہ سکی کبھی سر میکدہ تری بے رخی وہی تیرا بزمیؔ وہ بادہ کش نہ جھکا ہوا نہ بکا ہوا
koi haadisa koi vaaqi'a na kahaa huaa na sunaa huaa
آج مہنگا لہو سے پانی ہے ساقیا تیری مہربانی ہے عقل پر مصلحت کے پردے ہیں دل پہ جذبوں کی حکمرانی ہے آہ دل میں نہ اشک آنکھوں میں مجھ میں اب آگ ہے نہ پانی ہے ان سے کہنا سنور گئے جنگل ان سے کہنا کہ رت سہانی ہے من کی دولت پہ رکھ نگہبانی ورنہ دولت تو آنی جانی ہے برف سے جسم پر نگاہ کے بعد شرم سے دھوپ پانی پانی ہے پھول پر اتنا پھولتا کیوں ہے چند لمحوں کی زندگانی ہے پیٹھ پر وار ہو نہیں سکتا میرا دشمن بھی خاندانی ہے زخم سارے سجا کے رکھتا ہوں آپ کے پیار کی نشانی ہے بس تڑپنے میں کاٹ دی بزمیؔ زندگی ہجر کی کہانی ہے
aaj mahngaa lahu se paani hai
ٹوٹی ہوئی کشتی پہ بپھرتے ہوئے گرداب اللہ نگہبان ترا اے دل بیتاب جو موج حوادث کے تھپیڑوں میں پلا ہو موتی وہی ہوتا ہے جہاں میں در نایاب پھر آج دعاؤں میں گھٹا مانگ رہا ہے سوکھے ہوئے تالاب میں سہما ہوا سرخاب اے زور علی فقر ابوذر سے برومند بے زور ترے سامنے ہر رستم و سہراب تریاک کے کوزے میں بھرا زہر ہلاہل اللہ رے مے خانۂ مغرب کی مئے ناب دل توڑنے والے تجھے معلوم نہیں ہے سوکھی ہوئی آنکھوں سے ابل پڑتے ہیں سیلاب نغمات سے بیزار مغنی سے گریزاں سازوں کو ترس جائیں نہ ٹوٹے ہوئے مضراب تو اپنی حقیقت کا شناسا نہیں ورنہ دریا ترے دامن میں ہے اے ماہیٔ بے آب بزمیؔ یہ جفاؤں کا سلگتا ہوا صحرا اللہ رکھے تجھ کو زمانے میں ظفر یاب
TuuTi hui kashti pe bipharte hue girdaab
ہاں بکھرنے دے تسلی سے دل بسمل مجھے اے دھڑکتے دل ٹھہر جا مل گئی منزل مجھے ابر نیساں چادر شفاف بر محمل مجھے چاند کیا ہے بس کسی رخسار کا اک تل مجھے زلزلے ہر سانس میں ہر ہر نفس کرب حیات چین سے جینے نہ دے گا اضطراب دل مجھے اب یہ میرے ذہن کا بدلاؤ ہے یا بے بسی جانے کیوں وہ سنگ دل لگتا ہے دریا دل مجھے سبز گہرے رنگ کی چادر لپیٹے کوہسار خضر ساماں آ کبھی ان وادیوں میں مل مجھے آزماتا ہے مگر یہ خوش نصیبی کم نہیں اس نے سمجھا ہے جو اپنے پیار کے قابل مجھے وقت آنے دے پسینہ آئے گا ہر موج کو کیوں سمجھتا ہے کوئی کٹتا ہوا ساحل مجھے سر ہتھیلی پر لئے جب میں سر مقتل گیا دیکھتا تھا دم بخود خنجر بکف قاتل مجھے فتنہ سامانی کے دن ساغر بلب شیشہ بدست موت کا ساماں نہ ہو جائے تری محفل مجھے آج بھی شاہد ہے بزمیؔ وادیٔ جبرالٹر کشتیاں اپنی جلائیں تب ملا ساحل مجھے
haan bikharne de tasalli se dil-e-bismil mujhe





