SHAWORDS
Sarfaraz Khan Azmi

Sarfaraz Khan Azmi

Sarfaraz Khan Azmi

Sarfaraz Khan Azmi

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

بے قراری ہے کہ آثار یہ جھنجھٹ کے ہیں وسوسے ان دنوں دل میں نئی آہٹ کے ہیں وہ نہ آئے تو اترتے نہیں پانی میں بطخ اس کے نقال بھی دل باختہ پنگھٹ کے ہیں چھیڑتے ہیں مجھے محروم تمنا کہہ کر ایک دو ان میں یقیناً اسی نٹکھٹ کے ہیں ہے یہ دنیا بڑی حرافہ مگر دل والے خوگر غم ہیں ازل سے تری چوکھٹ کے ہیں ہم مقلد ہیں ترے ہے ہمیں مرغوب جمال اور وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم بھٹکے ہیں کوئی پرخاش پہ اکساتا نہیں حضرت کو یعنی بدنام زیادہ ہی مرے جھٹکے ہیں اتنا پھولیں نہ کئی گھاٹ کا پانی پی کر ٹوٹ جائیں گے کہ مٹی ہی کے سب مٹکے ہیں ہضم ہوں گے نہ یہ اشعار تو سفلی ناقد قے کریں گے کہ وہ کارندے ملاوٹ کے ہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز نہیں ہیں لیکن سرفراز اعظمیؔ لوگوں سے ذرا ہٹ کے ہیں

be-qaraari hai ki aasaar ye jhanjhaT ke hain

غزل · Ghazal

خدا وہ دن نہ دکھائے کہ سرفراز کریں فضول شعر کہیں اور اس پہ ناز کریں بدلنے والا ہے جغرافیہ گلستاں کا گروہ بندی سے لازم ہے احتراز کریں مہابلی کی پڑوسی اڑاتے ہیں کھلی ضمیر بیچنے والے نہ فاش راز کریں ابھی شکست یقینی نہیں بتا دو انہیں مرے خلاف ابھی اور ساز باز کریں جناب شیخ بھی ظالم کے اتحادی ہیں یہ نسل نو کو ہدایت سخن طراز کریں ہوائے شہر ہے مسموم ہوشیار رہو عجب نہیں تمہیں تقسیم چال باز کریں اناج بانٹتے پھرتے ہیں اب وہ بستی میں جو خیر و شر میں یقیناً نہ امتیاز کریں خدا کے خوف پہ غالب وبا کا خوف ہوا یہ حکم ہے کہ اکیلے ادا نماز کریں جنازہ امن کا نکلے گا دھوم سے اب کے دعائیں کرتے رہیں آپ وہ نیاز کریں

khudaa vo din na dikhaae ki sarfaraaz karein

غزل · Ghazal

کوئی ماڈل نہ کوئی آئیڈیل چاہیے ہے آج بھی چاہیے تو ہی مجھے کل چاہیے ہے قید کر بانہوں میں پھر زلف کو زنجیر بنا اب کوئی کاٹ کپٹ اور نہ چھل چاہیے ہے میری غفلت ہے ترے حسن مجسم کا زوال مجھ کو تنہائی میں پر نور خلل چاہیے ہے ایک مدت سے میں محبوس ہوں اپنے اندر دم گھٹا جاتا ہے کچھ رد و بدل چاہیے ہے وقت کا کوئی تقاضا نظر انداز نہیں دل بضد ہے اسے حیرانی کا حل چاہیے ہے روٹیاں سینکنے بیٹھے ہیں سیاست والے ان کو تو برق و شرر رقص اجل چاہیے ہے ایستادہ ہیں گلستاں میں بہائم ہر سو طائرو غل کرو یہ نیک عمل چاہیے ہے ان کو ماحول کی سنگینی کا احساس نہیں جو یہ کہتے ہیں کہ رنگین غزل چاہیے ہے عزت نفس کا مشکل ہے تحفظ یعنی ایک فرقے کو یہاں جنگ و جدل چاہیے ہے سرفرازؔ اب وہی ہٹ دھرم قلعے کا غاصب کہہ رہا ہے کہ اسے تاج محل چاہیے ہے

koi model na koi ideal chaahiye hai

Similar Poets