SHAWORDS
Sarita Jain

Sarita Jain

Sarita Jain

Sarita Jain

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

sar pe saudaa savaar karnaa thaa

سر پہ سودا سوار کرنا تھا ہم کو بھی دشت پار کرنا تھا پہلے سورج بناتے خود کو تم پھر اندھیروں پہ وار کرنا تھا گر ہنر تھے تمہارے ہاتھوں میں شعلہ کو آبشار کرنا تھا بادلوں سے یہی غرض تھی ہمیں اپنا سایا فرار کرنا تھا ہجر میں جاں گنوانے والے تجھے اور کچھ انتظار کرنا تھا شوق سے ہی لگاؤ تھا ہم کو شوق ہی درکنار کرنا تھا اتنی وسعت کا کیا کرے گا وہ آسماں کا بچار کرنا تھا موت کی سوچتے رہے سرتاؔ زیست کو یادگار کرنا تھا

غزل · Ghazal

mere andar hai kamraa tirgi kaa

میرے اندر ہے کمرا تیرگی کا دریچہ کوئی کھولے روشنی کا سمندر ساتھ ہے صدیوں سے لیکن وہی عالم ہے میری تشنگی کا ذرا سی لاؤ خود میں خاکساری اثر پھر دیکھنا تم بندگی کا کسی دن دیکھ کر آنکھیں تمہاری بناؤں گی میں چہرہ زندگی کا محبت بس محبت بس محبت یہی اک فلسفہ ہے زندگی کا وبا ہر دن بدل لیتی ہے چہرہ خدا جانے کیا ہوگا اس صدی کا لگے ہے غیر سی سریتاؔ کو دنیا یہ جادو ہے تری دیوانگی کا

غزل · Ghazal

tu ne koshish zaraa bhi ki hi nahin

تو نے کوشش ذرا بھی کی ہی نہیں ورنہ یہ ناؤ ڈوبتی ہی نہیں اس محبت میں ٹوٹنا دل کا فرض ہوتا ہے لازمی ہی نہیں عشق کا یہ دیار ہے صاحب ہے خدا بھی یہاں خودی ہی نہیں کان کب سے لگائے بیٹھی ہوں کوئی بھی آنکھ بولتی ہی نہیں چاک پہ رکھی رہ گئی مٹی کوئی تخلیق تو ہوئی ہی نہیں موت پنجے گڑائے ہے اپنے زندگی مجھ کو چھینتی ہی نہیں ہر مصور کا اس پہ دعویٰ ہے ایک تصویر جو بنی ہی نہیں وقت اس نے دیا ہے ملنے کا اور مرے پاس میں گھڑی ہی نہیں کوئی سرتاؔ ہے اس قدر مجھ میں اس سے ہٹ کر غزل ہوئی ہی نہیں

غزل · Ghazal

insaan hon to qaum ke gham-khvaar bhi rahein

انسان ہوں تو قوم کے غم خوار بھی رہیں زندہ تمام لوگوں کے کردار بھی رہیں صحت اگر ہے ٹھیک تو بچہ نہ آئیں گے ماں باپ کو یہ چاہیئے بیمار بھی رہیں سب کی قلم سے مانگ ہے لے آئے انقلاب اب روشنائی میں تری انگار بھی رہیں دریا میں جو بھی ڈوبے ابرنے نہ پائے وہ لہروں کے ساتھ ساتھ ہی منجدھار بھی رہیں جن کو وطن سے پیار ہے ان سے بسے یہ ملک کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ غدار بھی رہیں حالانکہ حادثوں پہ اکٹھا تو ہوگی بھیڑ ممکن کہاں ہے ان میں مددگار بھی رہیں سریتاؔ گلی گلی میں تو بازار سج گئے سرکار چاہتی ہے خریدار بھی رہیں

غزل · Ghazal

kahin pe dhuup kahin saaebaan hotaa hai

کہیں پہ دھوپ کہیں سائبان ہوتا ہے مسافروں کا یہی امتحان ہوتا ہے عمارتیں نہیں گرتیں وہاں محبت کی بھلے ہی گاؤں میں کچا مکان ہوتا ہے بہت سے لوگ تو رہتے ہیں اب بھی محلوں میں کسی کے سر پہ فقط آسمان ہوتا ہے گنوا کے نیند اگائے ہیں خواب آنکھوں میں ہر ایک فصل کا کچھ تو لگان ہوتا ہے یقین ہو تو مری بات یوں ہی سن لو تم حلف اٹھا کے تو جھوٹا بیان ہوتا ہے پھسلنا گرنا سنبھلنا پھر اٹھ کے چل دینا انہیں طریقوں سے بچہ جوان ہوتا ہے جب اپنے لوگوں کی نظریں بدلتی ہیں سرتاؔ زبان والا وہیں بے زبان ہوتا ہے

Similar Poets