SHAWORDS
S

Sarosh Lucknowi

Sarosh Lucknowi

Sarosh Lucknowi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

فریب کثرت جلوہ سے آشنا ہوں میں تری قسم تجھے تنہا ہی دیکھتا ہوں میں قبول جو نہیں ہوتی وہ التجا ہوں میں کبھی جو بر نہیں آتا وہ مدعا ہوں میں مجھے نہ چھیڑ دکھے دل کا تاجرا ہوں میں تمام قصۂ ناکامیٔ وفا ہوں میں متاع عام نہیں جنس بے بہا ہوں میں پرکھنے والے پرکھ جوہر وفا ہوں میں رسائیاں مری محدود ہیں مرے دل تک لب آشنا نہیں وہ آہ نارسا ہوں میں مری حیات محبت ہے بے کسی کی حیات خود اپنے حال کو بھی غیر پا رہا ہوں میں وہ راز فاش ہوں جس پر نظر نہیں پڑتی جنوں کا بھیس ہے اور عشق برملا ہوں میں رخ حزیں سے نمایاں ہے خستگی دل کی شکست رنگ تمنا کا آئنہ ہوں میں نہ کوئی راہ ہے میری نہ کوئی منزل ہے فضا میں کھوئی ہوئی دور کی صدا ہوں میں کہاں پہ دیکھیے لے جائے عشق کی عظمت ابھی تو دور وفا سے گزر رہا ہوں میں بہار گل کہ شفق کا ہو منظر رنگیں ترا ہی نقش تبسم ہے جانتا ہوں میں خدا کرے کہ یہ لمحے ابد سے مل جائیں وہ اشک پوچھتے جاتے ہیں رو رہا ہوں میں جو تیر بن کے کلیجے کے پار ہوتی ہے شکست ساز کی وہ آخری صدا ہوں میں جگہ ہے میرے لیے خاص قلب قدرت میں دل غریب سے نکلی ہوئی دعا ہوں میں سروشؔ مشق گناہ بھی کبھی کبھی ورنہ خودی نہ بڑھ کے یہ کہنے لگے خدا ہوں میں

fareb-e-kasrat-e-jalva se aashnaa huun main

غزل · Ghazal

کہہ رہا تھا میں زمانہ گوش بر آواز تھا دل شکن قصے کا کتنا دل نشیں انداز تھا اف وہ دور حسن جب ہر لمحہ جان ناز تھا کمسنی جانے پہ مچلی تھی شباب آغاز تھا رخصت فریاد پر بھی میں سراپا راز تھا گریہ تھا بے آب یکسر نالہ بے آواز تھا لن ترانی کی صدا کا گرم اک انداز تھا جس کو موسیٰ جلوہ سمجھے شعلۂ آواز تھا حسن کی روز ازل ہنگامہ آرائی نہ پوچھ راز تھا خود خود امین راز خود غماز تھا ایک اک ذرہ میں جلوہ ایک اک جلوہ حجاب فاش ہو جانے پہ بھی راز حقیقت راز تھا ہائے وہ جاتا لڑکپن ہائے وہ آتا شباب ناز میں اک سادگی تھی سادگی میں ناز تھا طور پر بجلی زمیں پر گل فلک پر چاندنی مسکرانے کا ترے ہر جا نیا انداز تھا اڑ کے پہنچی روح گلشن تن قفس میں رہ گیا قید ہونے پر بھی میں کتنا سبک پرواز تھا طاقت پرواز رعشہ بن کے رخصت ہو گئی عازم پرواز پھر بھی عازم پرواز تھا

kah rahaa thaa main zamaana gosh-bar-aavaaz thaa

غزل · Ghazal

جوانی کار فرمائے محبت ہوتی جاتی ہے قیامت میں بپا تازہ قیامت ہوتی جاتی ہے محبت آئنہ دار حقیقت ہوتی جاتی ہے مری نظروں میں ہر شے خوب صورت ہوتی جاتی ہے وہی ہیں روز و شب پر تیرہ قسمت ہوتی جاتی ہے ہر اک صبح مسرت شام حسرت ہوتی جاتی ہے ہر اک خواہش ہر اک امید رخصت ہوتی جاتی ہے محبت کے لئے ان سے محبت ہوتی جاتی ہے کبھی راز طرب کی جستجو تھی اب یہ عالم ہے خوشی کے نام سے بھی دل کو نفرت ہوتی جاتی ہے سکوں تو مٹ چکا بیتابیاں بھی مٹتی جاتی ہیں دل زندہ کی تکمیل شہادت ہوتی جاتی ہے رگیں کھنچتی ہیں دل سینے سے باہر نکلا آتا ہے گلے مل مل کے ان کی یاد رخصت ہوتی جاتی ہے شکن لاؤ جبیں پر یا نگاہ لطف سے دیکھو ہر اک صورت مرے مٹنے کی صورت ہوتی جاتی ہے لڑکپن اور احساس جوانی توبہ ہے توبہ کلی کھلنے سے پہلے مست نکہت ہوتی جاتی ہے مبارک حسن بے پروا کو بے پروائیاں اپنی محبت آپ غم‌ خوار محبت ہوتی جاتی ہے

javaani kaar-farmaa-e-mohabbat hoti jaati hai

غزل · Ghazal

ظرف اس ہستئ ما فوق کا ہونا چاہا میں نے قطرہ میں سمندر کو ڈبونا چاہا غم و عشرت کو بہم میں نے سمونا چاہا تھام کر دامن محبوب کو رونا چاہا غرق بے عشرت پیکار نہ ہونا چاہا میں نے طوفان کو کشتی میں ڈبونا چاہا دل کشی راہ محبت کی الٰہی توبہ بے خودی نے سر منزل مجھے کھونا چاہا دامن تر کی طرح اشک ندامت نے مرے حشر میں نامۂ اعمال کو دھونا چاہا عشق نے حسن کی آمد پہ سجا منظر چشم ہر مژہ میں گہر اشک پرونا چاہا بن گئے اشک مرے دوست کے ماتھے کا عرق مہر کو رشحۂ شبنم نے بھگونا چاہا عشق گستاخ کی اللہ ری راحت طلبی رکھ کے سر زانو محبوب پہ سونا چاہا دل نے خود میری تباہی کا اٹھایا بیڑا نا خدا نے مری کشتی کو ڈبونا چاہا سعیٔ ناکام نے کیا شغل نکالا آخر آنسوؤں سے خط تقدیر کو دھونا چاہا

zarf us hasti-e-maa-fauq kaa honaa chaahaa

غزل · Ghazal

یہ داغ دل ترے رخ کا جواب ہو نہ سکا چراغ لاکھ جلا آفتاب ہو نہ سکا ہزار بار زمانے نے کروٹیں بدلیں مری وفا میں کوئی انقلاب ہو نہ سکا کہو کہ چھیڑ کے چھالوں کو کیا ملا آخر لہو میں ڈوب کے کانٹا گلاب ہو نہ سکا زمیں پہ جام بھی ٹوٹے فلک پہ اختر بھی شکست شیشۂ دل کا جواب ہو نہ سکا مآل ولولۂ عرض شوق کیا کہئے زبان کیسی نظر سے خطاب ہو نہ سکا حریم دوست کی رفعت ارے معاذ اللہ بجز خیال کوئی باریاب ہو نہ سکا وہ چشم مست کچھ ایسی جھکی جھکی سی رہی بہ قدر حوصلہ کوئی خراب ہو نہ سکا نظر نظر میں سما کر رہے بہر صورت حجاب کر نہ سکے یا حجاب ہو نہ سکا شفق نکھر کے بھی تیری حریف بن نہ سکی چمن سنور کے بھی تیرا جواب ہو نہ سکا دم وداع یہ مجبوریاں محبت کی سلام کا بھی کسی کے جواب ہو نہ سکا ہزار حسن و نزاکت سے شاخ گل لچکی سلام ناز کا تیرے جواب ہو نہ سکا

ye daagh-e-dil tire rukh kaa javaab ho na sakaa

Similar Poets