Sarshar Hoshyarpuri
Sarshar Hoshyarpuri
Sarshar Hoshyarpuri
Ghazalغزل
جسے لب پر نہ لانا چاہتا ہوں وہ افسانہ سنانا چاہتا ہوں کچھ آنسو چاہتا ہوں آج پینا کچھ آنکھوں سے بہانا چاہتا ہوں تر و تازہ رہیں جو تا قیامت کچھ ایسے گل کھلانا چاہتا ہوں مجھے تو آزمانا چاہتا ہے تجھے میں آزمانا چاہتا ہوں
jise lab par na laanaa chaahtaa huun
مقدر آج کل کچھ مہرباں معلوم ہوتا ہے زمیں کا ذرہ ذرہ آسماں معلوم ہوتا ہے کھٹکتا ہے کبھی گل خار کی مانند آنکھوں میں کبھی خار بیاباں گل فشاں معلوم ہوتا ہے امیر کارواں کے ہم قدم ہیں کارواں والے جسے دیکھو امیر کارواں معلوم ہوتا ہے ہمارا ہی ہمارا آشیاں ہے آشیانوں میں ہمارا ہی ہمارا آشیاں معلوم ہوتا ہے
muqaddar aaj-kal kuchh meherbaan maalum hotaa hai
سلام اک پیام ہے پیام اک سلام ہے سلام پھر سلام ہے پیام پھر پیام ہے ترا وجود خاص ہے مرا وجود عام ہے برائے نام ہی سہی مرا بھی کچھ مقام ہے نہ دھوپ ہے نہ چھاؤں ہے نہ صبح ہے نہ شام ہے یہ کون سا دیار ہے یہ کون سا مقام ہے سلام جان و مال کے محافظوں سلام ہے درندہ بے لگام ہے پرندہ زیر دام ہے نہ فرصت قرار ہے نہ فرصت قیام ہے سفر بھی ناتمام ہے لگن بھی ناتمام ہے برون مے کدہ ہی کیوں یہ روک ٹوک پوچھ تاچھ تری طرف سے ساقیا اگرچہ اذن عام ہے یہ اونچ نیچ ذات پات چھوت چھات بھید بھاؤ ترے لئے حلال ہے مرے لئے حرام ہے نگاہ کا فریب ہے نہیں کچھ اور دوستو وہی مہ تمام ہے وہی مہ صیام ہے
salaam ik payaam hai payaam ik salaam hai
یہی اکثر اوقات ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف آپ کم دیکھتے ہیں تری زلف کے پیچ و خم دیکھتے ہیں کہ در ہائے دیر و حرم دیکھتے ہیں خدا کی قسم کیا نہیں دیکھتے ہم تمہیں جب خدا کی قسم دیکھتے ہیں دکھاتی ہے کیا کیا کرشمے محبت یہ آب بقا ہے کہ سم دیکھتے ہیں ستم بر ستم زندگی کے محافظ ستم گر کو وقف ستم دیکھتے ہیں اگر ہم بہت کم نظر ہیں تو کیا ہے کچھ اہل نظر بھی تو کم دیکھتے ہیں ہمارے خدا ہیں مگر آپ کب تک رہیں گے صنم کے صنم دیکھتے ہیں خدارا نہ پوچھو نہ پوچھو خدارا جو ہم دیکھتے تھے جو ہم دیکھتے ہیں نظر آئے آئے نہ آئے نہ آئے نوشتے میں کیا ہے رقم دیکھتے ہیں کسی کے محاسن کسی کے معائب یہ تم دیکھتے ہو وہ ہم دیکھتے ہیں کئی دیکھنے والے ایسے بھی ہیں جو خوشی دیکھتے ہیں نہ غم دیکھتے ہیں کب آئے گا دن جب غریبوں کی جانب اٹھیں گے تمہارے قدم دیکھتے ہیں میں ان مطربوں کی طرف دیکھتا ہوں جو سر دیکھتے ہیں نہ سم دیکھتے ہیں نہیں دیکھتے آنکھ اٹھا کر غلط ہے نہیں واعظ محترم دیکھتے ہیں جنہیں ناز ہے قوت باصرہ پر وہی لوگ سرشارؔ کم دیکھتے ہیں
yahi aksar auqaat ham dekhte hain
نہ ہم صفیر نہ ہمدم دکھائی دیتا ہے بہت خوشی میں بہت کم دکھائی دیتا ہے یہ غم نہیں کہ ہمیں کم دکھائی دیتا ہے دکھائی دیں گے ہمیں ہم دکھائی دیتا ہے صلیب و دار کا عالم دکھائی دیتا ہے کہیں زیادہ کہیں کم دکھائی دیتا ہے نہ صرف آب بقا سم دکھائی دیتا ہے مسیح پاک بھی اب یم دکھائی دیتا ہے دکھائی دے بھی تو ایسے میں کیا دکھائی دے زمانہ درہم و برہم دکھائی دیتا ہے بہر نگاہ دو عالم دکھائی دیتے ہیں کبھی کبھار وہ عالم دکھائی دیتا ہے گزر رہی ہے شب غم خیال کی لو میں یہی چراغ شب غم دکھائی دیتا ہے وہ لم یزل کسی دشمن کو بھی یہ دن نہ دکھائے ہلال مظہر ماتم دکھائی دیتا ہے یہ بات داد طلب ہے شکست کھا کر بھی غنیم آج منظم دکھائی دیتا ہے زمانہ کل بھی یہی آئنہ دکھائے گا کہ دیکھتے ہی رہیں ہم دکھائی دیتا ہے تجھے وظیفہ سے فرصت نہیں ذرا واعظ مجھے فریضہ مقدم دکھائی دیتا ہے تحسرانہ نگاہوں سے دیکھنے والے یہاں کوئی خوش و خرم دکھائی دیتا ہے قفس سے آ تو گیا باہر آج شیر مگر نہ ولولہ نہ وہ دم خم دکھائی دیتا ہے حرم میں دیر میں درگاہ میں کلیسا میں جہاں تہاں بت آدم دکھائی دیتا ہے یہ اپنے اپنے نظریے کی بات ہے سرشارؔ وہ اجنبی ہمیں ہم دم دکھائی دیتا ہے
na ham-safir na hamdam dikhaai detaa hai





