Sartaj Alam Abidi
Sartaj Alam Abidi
Sartaj Alam Abidi
Ghazalغزل
پاتے رہے یہ فیض تری بے رخی سے ہم گویا کہ دور ہوتے رہے زندگی سے ہم غم دائمی ہے اور خوشی عارضی سی چیز اس واسطے قریب نہیں ہیں خوشی سے ہم محسوس تم سے مل کے ہوا ہم کو پہلی بار ہیں ہمکنار آج مجسم خوشی سے ہم اک دور تھا لکھا تھا مرے دل پہ تیرا نام ہیں آج تیری بزم میں اک اجنبی سے ہم جلنے سے آشیاں کے چراغاں سا ہو گیا محروم ہو چکے تھے نئی روشنی سے ہم ہے زندگی کی شام نہیں ہم نوا کوئی ہر سمت دیکھتے ہیں عجب بیکسی سے ہم تخریب کائنات ہے انسان دشمنی سرتاجؔ کہہ رہے ہیں یہ ہر آدمی سے ہم
paate rahe ye faiz tiri be-rukhi se ham
تیری ناراضگی فصل خزاں ہے رفاقت گلستاں ہی گلستاں ہے ہوئی ہے وار پر جس کی سماعت حدیث عشق ایسی داستاں ہے یقیناً انقلاب آیا ہے کوئی ہمارا ذکر اور ان کی زباں ہے غموں کا زنگ جو دل سے مٹا دے وہ دل کش آپ کا طرز بیاں ہے مجھے موج حوادث کا نہیں ڈر سفینہ کی مرے ہمت جواں ہے وطن کے رہنما سے پوچھتا ہوں وہ رہزن ہے کہ میر کارواں ہے
teri naaraazgi fasl-e-khizaan hai





