Sarul Bagla
آنا جانا نہیں کہ کم کر لیں غم بہانا نہیں کہ کم کر لیں زیست کٹتی ہے روز قطروں میں یہ فسانہ نہیں کہ کم کر لیں یہ محبت ہی سب مصیبت تھی وہ بھی مانا نہیں کہ کم کر لیں
aanaa jaanaa nahin ki kam kar lein