
Sarvat Zaidi Bhopali
Sarvat Zaidi Bhopali
Sarvat Zaidi Bhopali
Ghazalغزل
ہمیشہ لب پہ میٹھے بول رکھنا محبت کے دریچے کھول رکھنا فساد و خوف کی آب و ہوا ہے شہر میں امن کا ماحول رکھنا یہی تو راستے ہیں زندگی کے خلوص و پیار میں مت جھول رکھنا مری فطرت کا یہ شیوہ نہیں ہے کسی کے سامنے کشکول رکھنا محبت چاند سے بھی قیمتی ہے نہیں آسان اس کا مول رکھنا کسی کے واسطے کچھ بھی کہو تم مگر الفاظ پہلے تول رکھنا مخالف ہوں ہوائیں غم نہیں ہے پرندوں کی طرح پر کھول رکھنا یقیناً جیت لو گے کھیل ثروتؔ نظر میں زندگی کا گول رکھنا
hamesha lab pe miThe bol rakhnaa
در و دیوار پہ صدیوں کا اثر لگتا ہے گھر میں کوئی نہیں ہوتا ہے تو ڈر لگتا ہے سوتی اور جاگتی کرنیں ہیں مری آنکھوں میں ایک جیسا ہی مجھے شام و سحر لگتا ہے کوئی آساں تو نہیں درد کی منزل پانا دل کی ہر بات میں پتھر کا جگر لگتا ہے پھول سب ایک سے دل کش نہیں ہوتے لیکن اس کی زلفوں میں ہر اک پھول مگر لگتا ہے ورنہ اک بوجھ سی لگتی ہے تلاش منزل ہم سفر ساتھ اگر ہو تو سفر لگتا ہے جس پہ سو جاتے ہیں معصوم پرندے ثروتؔ بس وہی پیڑ درختوں میں شجر لگتا ہے
dar-o-divaar pe sadiyon kaa asar lagtaa hai





