Sarwar Arman
Sarwar Arman
Sarwar Arman
Ghazalغزل
اک عجب کیفیت ہوش ربا طاری تھی قریۂ جاں میں کسی جشن کی تیاری تھی سر جھکائے ہوئے مقتل میں کھڑے تھے جلاد تختۂ دار پہ لٹکی ہوئی خودداری تھی خون ہی خون تھا دربار کی دیواروں پر قابض تخت وراثت کی ریاکاری تھی ایک ساعت جو تری زلف کے سائے میں کٹی ہجر بر دوش زمانوں سے کہیں بھاری تھی اور سب ٹھیک تھا بس ہم سے بھلائی نہ گئی تیرے خاموش رویے میں جو بے زاری تھی اک قیامت تھی کہ رسوا سر بازار تھے ہم اور پھر اس کی وہ تشویش بھی بازاری تھی تیرے محکوم ترے حاشیہ بر داروں کی صرف وردی ہی نہیں سوچ بھی سرکاری تھی
ik ajab kaifiyat-e-hosh-rubaa taari thi
1 views
شب تاریک چپ تھی در و دیوار چپ تھے نمود صبح نو کے سبھی آثار چپ تھے تماشا دیکھتے تھے ہمارے ضبط غم کا مسلط ایک ڈر تھا لب اظہار چپ تھے ہوائیں چیختی تھیں فضائیں گونجتی تھیں قبیلہ بٹ رہا تھا مگر سردار چپ تھے گراتا کون بڑھ کر بھلا دیوار ظلمت اجالوں کے پیمبر پس دیوار چپ تھے متاع آبرو کو بچا سکتے تھے لیکن محافظ سرنگوں تھے تو پہرے دار چپ تھے نہیں ہے اس سے بڑھ کر کوئی توہین فن کی خریدے جا رہے تھے مگر فن کار چپ تھے زمانہ چاہتا تھا کہانی کا تسلسل مگر پردے کے پیچھے سبھی کردار چپ تھے
shab-e-taarik chup thi dar-o-divaar chup the
ہم تو موجود تھے راتوں میں اجالوں کی طرح لوگ نکلے ہی نہیں ڈھونڈنے والوں کی طرح جانے کیوں وقت بھی آنکھیں بھی قلم بھی لب بھی آج خاموش ہیں گزرے ہوئے سالوں کی طرح حاجتیں زیست کو گھیرے میں لیے رکھتی ہیں خستہ دیوار سے چمٹے ہوئے جالوں کی طرح رات بھیگی تو سسکتی ہوئی خاموشی سے آسماں پھوٹ پڑا جسم کے چھالوں کی طرح ساری راہیں سبھی سوچیں سبھی باتیں سبھی خواب کیوں ہیں تاریخ کے بے ربط حوالوں کی طرح زندگی خشک ہے ویران ہے افسردہ ہے ایک مزدور کے بکھرے ہوئے بالوں کی طرح زخم پہنے ہوئے معصوم بھکاری بچے صفحۂ دہر پہ بکھرے ہیں سوالوں کی طرح
ham to maujud the raaton mein ujaalon ki tarah
سرکشی کو جب ہم نے ہم رکاب رکھنا ہے ٹوٹنے بکھرنے کا کیا حساب رکھنا ہے ایک ایک ساعت میں زندگی سمونی ہے ایک ایک جذبے میں انقلاب رکھنا ہے رات کے اندھیروں سے جنگ کرنے والوں نے صبح کی ہتھیلی پر آفتاب رکھنا ہے ہم پہ اس سے واجب ہیں کوششیں بغاوت کی تم نے جس قبیلے کو کامیاب رکھنا ہے رکھ دو ہم فقیروں کی اس کشادہ جھولی میں اپنی بادشاہی کا جو عذاب رکھنا ہے تم تو خود زمانے میں جبر کی علامت ہو تم نے جبر کیا زیر احتساب رکھنا ہے شہر بے اماں ہم نے نقد جاں لٹا کر بھی تیرے ہر دریچے پر کل کا خواب رکھنا ہے
sar-kashi ko jab ham ne ham-rikaab rakhnaa hai
تلخیص کے بدن میں تفسیر بولتی ہے تکمیل آرزو میں تدبیر بولتی ہے یہ معجزہ بھی دیکھا ہم نے کمال فن کا چپ ہو اگر مصور تصویر بولتی ہے تزئین انجمن کے ہم نے جو خواب دیکھے اب کرچیوں میں ان کی تعبیر بولتی ہے وہ لب کشا ہو جس دم لگتا ہے ہر کسی کو ہر لفظ میں اسی کی تقدیر بولتی ہے بنتا ہے مفلسوں کا وہ غم گسار لیکن انداز گفتگو میں جاگیر بولتی ہے جذبوں پہ لاکھ کوئی پابندیاں لگا دے اظہار میں انہی کی تاثیر بولتی ہے خاموش ہیں قفس کے دیوار و در تو کیا ہے ٹکرا کے ہر قدم سے زنجیر بولتی ہے جب آگہی کا اژدر ڈستا ہے آدمی کو مفہوم ناچتے ہیں تحریر بولتی ہے
talkhis ke badan mein tafsir bolti hai





