
Saulat Bano
Saulat Bano
Saulat Bano
Ghazalغزل
jahaan tum ho rashk-e-gulistaan paDaa hai
جہاں تم ہو رشک گلستاں پڑا ہے جہاں ہم ہیں دشت و بیاباں پڑا ہے یہاں تیرگی ہے وہاں روشنی ہے عجب اک تضاد نمایاں پڑا ہے وہ جوش بہاراں وہ ابر گہر بار سبھی کچھ پس چشم گریاں پڑا ہے ترے قصر میں ہر طرف ہے چراغاں مرے گھر میں فاقوں کا ساماں پڑا ہے ہے خوش تو کہ تیرا محل ہے سلامت ادھر شہر کا شہر ویراں پڑا ہے متاع نظر کیا ہے اک خواب فردا وہی خواب آنکھوں میں لرزاں پڑا ہے امیدوں کے لاشے ٹھکانے لگاؤ کہ رستے میں شہر خموشاں پڑا ہے ہے آشوب دل یا ہے وحشت ہماری کہ انساں سے انساں گریزاں پڑا ہے
ab nau-khirad javaan hai uljhaa junun se
اب نو خرد جوان ہے الجھا جنون سے تم کو شکست دے گا وہ علم و فنون سے کھلتی نہیں گرہ جو لگائی ہو وقت نے بچ کے گزر سکا نہ کوئی اس فسون سے بیچا ضمیر ہم نے تو اک چیخ سی اٹھی یہ آخری پکار تھی دل کے درون سے دھرتی پہ زخم بوئے تھے اگتے کہاں سے گل مقتل کو ہم نے سینچا ہے اپنے ہی خون سے ظالم کسی بھی دور کا ہو بھولتا نہیں دیکھو یزید یاد ہے کتنے قرون سے صولتؔ ہے کوئی سایہ کہ آسیب شہر پر سوتے نہیں ہیں لوگ یہاں پر سکون سے
de ke naam-e-vafaa pe mujh ko fareb
دے کے نام وفا پہ مجھ کو فریب وہ مری سادگی پہ ہنستے ہیں دیکھ کر شان کج ادائی کو ہم تری دلبری پہ ہنستے ہیں قید تنہائی کاٹتے ہیں ہم بام و در بے کسی پہ ہنستے ہیں ہے عبث نسخۂ مسیحائی زخم چارہ گری پہ ہنستے ہیں شوق منزل میں گم ہوئے ایسے راستے گمرہی پہ ہنستے ہیں چاندنی میں جلے ہوئے چہرے جانے کیوں تیرگی پہ ہنستے ہیں دل کی بستی اجاڑنے والے شہر آوارگی پہ ہنستے ہیں ہے خرد خود اسیر وہم و گماں آدمی آدمی پہ ہنستے ہیں
mataa'-e-ghairat-o-paimaan luTaa ke baiThe hain
متاع غیرت و پیماں لٹا کے بیٹھے ہیں جو ہم رکاب تھے رستے بھلا کے بیٹھے ہیں انہیں شگفتگی گلستاں سے کیا نسبت جو شاخ زرد پہ مسکن بنا کے بیٹھے ہیں مٹا کے سانجھے دکھوں کی ہر اک روایت کو وہ اپنے اپنے قبیلے بچا کے بیٹھے ہیں عجب یہ رسم مسیحائی ہے کہ چارہ گر غنیم وقت سے قیمت لگا کے بیٹھے ہیں جو معتبر تھے بہت بزم جاں نثاراں میں وہ آج غیر کی محفل سجا کے بیٹھے ہیں قبائے زر کی تمنا میں بیچ دی غیرت وقار حرف صداقت گنوا کے بیٹھے ہیں خرید لائے ہیں صولتؔ جو ظلمت پیہم چراغ مہر منور بجھا کے بیٹھے ہیں
khizaan mein Duubaa huaa hai bahaar kaa mausam
خزاں میں ڈوبا ہوا ہے بہار کا موسم بجھا بجھا سا ہے دل کے دیار کا موسم ملے ہیں ہجر کے لمحے متاع الفت میں لٹائے بیٹھے ہیں دل کے قرار کا موسم نہال عمر پہ ایسی خزاں اتر آئی کہیں پہ کھو گیا رنگ و بہار کا موسم دھواں دھواں ہیں بدن سوختہ گلابوں کے روش روش میں بسا ہے چنار کا موسم نہ پوچھ حال کہ دل کا عجیب عالم ہے کبھی ہے جبر کبھی اختیار کا موسم خروش دل ہے کہ ہے شور کوئی مقتل میں الجھ رہا ہے رگ جاں سے دار کا موسم ہوا کی گونج میں بھی تم سنائی دیتے ہو در جنوں نے دیا ہے پکار کا موسم روانہ ہونے کو ہے شوق کا ہر اک لمحہ بدلنے والا ہے شہر نگار کا موسم نگاہ زیست ابھی تک ہے مہرباں صولتؔ ہے نخل جاں پہ ابھی برگ و بار کا موسم





