
Saulat Zaidi
Saulat Zaidi
Saulat Zaidi
Ghazalغزل
خیال گردش شام و سحر میں رہتا ہوں میں گھر میں رہتے ہوئے بھی سفر میں رہتا ہوں میں اپنے جسم پہ تنقید کر نہیں سکتا مگر یہ سچ ہے کہ مٹی کے گھر میں رہتا ہوں مجھے قیام کہاں اب مجھے تلاش نہ کر ہے میرا نام مسافر سفر میں رہتا ہوں میں ایک درد سہی پھر بھی مٹ نہیں سکتا سبب یہ ہے کہ دل چارہ گر میں رہتا ہوں مجھی سے مانگے ہے سیلاب راستہ صولتؔ یہ جانتا ہے کہ مٹی کے گھر میں رہتا ہوں
khayaal-e-gardish-e-shaam-o-sahar mein rahtaa huun
مزاج دل نہ اتنا سرد ہوتا اگر پہلو بہ پہلو درد ہوتا یہ کچلی لاش اب بھی سوچتی ہے کوئی اس بھیڑ میں ہمدرد ہوتا خزاں والے یہی تو چاہتے ہیں ہرے پتوں کا چہرہ زرد ہوتا محبت پر ہے پروائی کا احساں وگرنہ دل میں کیوں یہ درد ہوتا زمانے کی نظر لگنے نہ دیتا جو تو آئینہ اور میں گرد ہوتا
mizaaj-e-dil na itnaa sard hotaa
ٹیس بھی ٹیس نہ تھی زخم جگر ہونے تک پھول بھی پھول نہ تھا خون میں تر ہونے تک وہی حق دار ہے سورج کی کرن کا جس نے رات کی زلف سنواری ہے سحر ہونے تک تارے دیوانے نہیں ہیں کہ جو تھامے ہی رہیں دامن شب کو گریبان سحر ہونے تک پوچھئے خضر سے کیا وہ بھی رہیں گے زندہ اپنی باتوں کا حبابوں پہ اثر ہونے تک ایک آنسو کی طرح تم مجھے رخصت کرنا روک لو پلکوں پہ آغاز سفر ہونے تک زندگانی کی حقیقت کو نہ سمجھے صولتؔ شاعری کرتے رہے عمر بسر ہونے تک
Tiis bhi Tiis na thi zakhm-e-jigar hone tak
جس رات بھی چراغ شب غم رہا ہوں میں اس رات روشنی میں بہت کم رہا ہوں میں غیروں سے دوستی کو بڑھایا ہے اپنا ہاتھ خود کتنا اپنے آپ سے برہم رہا ہوں میں خوشبو دل و دماغ میں اور وہ بھی اس قدر پھولوں کا ہم نشیں تو بہت کم رہا ہوں میں یہ شہر جسم و جاں مری پہچان بن گیا اس شہر میں اگرچہ بہت کم رہا ہوں میں کچھ پھول ہاتھ پر مرے کچھ خار جسم میں صولتؔ یہ کس بہار کا موسم رہا ہوں میں
jis raat bhi charaagh-e-shab-e-gham rahaa huun main
حائل ہیں اشک راہ میں کیسے نظر ملے بارش اگر تھمے تو مسافر کو گھر ملے آئے چراغ شام لگا لوں گلے تجھے دونوں کو یہ امید نہیں ہے سحر ملے دور جدید میں جو بڑھی فاصلوں کی بات جی چاہتا نہیں کہ نظر سے نظر ملے اب تو جنوں کے ہاتھ سے پتھر نکل گئے اب ہم بھی چاہتے ہیں کہ شیشہ کا گھر ملے صولتؔ وہ کیا مقام تھا ساعت تھی کون سی ٹھہرے ہوئے جہاں تمہیں شام و سحر ملے
haael hain ashk raah mein kaise nazar mile
تصویر دوست فکر مجسم بنی رہی میں اس سے بولتا رہا وہ سوچتی رہی کل شب تصورات کی محفل سجی رہی جب تک تمہارا ذکر رہا چاندنی رہی شاید سمجھ رہی تھی اسے بھی کوئی چراغ جگنو کے پیچھے تیز ہوا دوڑتی رہی پانی کا انتظام تھا غیروں کے ہاتھ میں یوں بھی گھروں میں آگ ہمارے لگی رہی پوری ہوئی نہ سر کو کٹانے کی آرزو کاندھوں پہ میرے دل کی تمنا رکی رہی پھر اگلی جنگ لڑنا مگر اس شکست میں یہ سوچنا پڑے گا کہاں کیا کمی رہی تھی ان کو صرف ایک نظر دیکھنے کی بات جو حرف آخری کی طرح آخری رہی الفت میں ہار جیت کا لگتا نہیں پتہ وہ شرط جو لگی بھی نہیں تھی لگی رہی صولتؔ کمی تمہاری اگر ہے تو مان لو کب تک یہی کہو گے کہ قسمت بری رہی
tasvir-e-dost fikr-e-mujassam bani rahi





