SHAWORDS
Sayyad Ejaz Ahmad Rizwi

Sayyad Ejaz Ahmad Rizwi

Sayyad Ejaz Ahmad Rizwi

Sayyad Ejaz Ahmad Rizwi

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

جگر کے خون سے روشن گو یہ چراغ رہا مثال ماہ چمکتا تو دل کا داغ رہا بدل گیا ہے زمانہ چلی وہ باد سموم نہ گل رہے نہ وہ بلبل رہی نہ باغ رہا حضور حسن سے خوشیاں نہ مل سکیں نہ سہی متاع غم سے تو صد شکر با فراغ رہا وہ ڈال دی غلط انداز اک نظر تو نے کہ میں زمیں پہ رہا عرش پر دماغ رہا نہ ہوگی بزم جہاں میں رسائی ظلمت یہاں چراغ سے جلتا اگر چراغ رہا کسے تھا ہوش کسی کی تلاش کا رضویؔ تمام عمر ہی میں درپئے سراغ رہا

jigar ke khuun se raushan go ye charaagh rahaa

غزل · Ghazal

جو ہونا ہے وہی ہوتا رہے گا کبھی ہنستا کبھی روتا رہے گا بچا کوئی مکافات عمل سے وہی کاٹے گا جو بوتا رہے گا کچھ اپنا ہی بگاڑے گا اگر تو بھرم اپنا میاں کھوتا رہے گا ترے اعدا نکل جائیں گے آگے اگر تو رات دن سوتا رہے گا تو اپنا بار عصیاں کم سے کم کر کہاں تک بوجھ یہ ڈھوتا رہے گا کوئی حد بھی ہے آخر آنسوؤں سے کہاں تک اپنا منہ دھوتا رہے گا کہیں تدبیر سے ٹلتا ہے رضویؔ لکھا تقدیر کا ہوتا رہے گا

jo honaa hai vahi hotaa rahegaa

غزل · Ghazal

مجھے مشکل میں یوں اندازۂ مشکل نہیں ہوتا کبھی میں کثرت افکار سے بد دل نہیں ہوتا اگر ہونا پڑے منت کش امواج بھی مجھ کو تو پھر میری خودی کو کچھ غم ساحل نہیں ہوتا نہیں کچھ پاس غیرت جس کو اس کا ذکر ہی کیا ہے جو غیرت مند ہے وہ در بدر سائل نہیں ہوتا جھکا کرتی ہیں وہ شاخیں جو ہوتی ہیں ثمر آور وہی ہوتا ہے خود سر جو کسی قابل نہیں ہوتا لہو کی تیرے ہر ہر بوند فریادی ہے گو بسمل مگر قاتل کے منہ پر شکوۂ قاتل نہیں ہوتا دل ناکام پھر لے کام ذوق سعئ پیہم سے کف افسوس ملنے سے تو کچھ حاصل نہیں ہوتا یقیناً مقصد تخلیق کو سمجھا ہوا ہے وہ فرائض سے کبھی جو آدمی غافل نہیں ہوتا وہ انساں ہے ملک سجدے گزاریں جس کے دامن پر وہ ذرہ کیا جو ہم دوش مہ کامل نہیں ہوتا جو روئے دیکھ کر ہر ہر قدم پر پاؤں کے چھالے کبھی وہ راہرو آسودۂ منزل نہیں ہوتا مرے سوز دروں میری نوا کا فیض ہے رضویؔ ترا ہونا تو وجہ گرمئ محفل نہیں ہوتا

mujhe mushkil mein yuun andaaza-e-mushkil nahin hotaa

Similar Poets