SHAWORDS
Seema Sharma Meeruthi

Seema Sharma Meeruthi

Seema Sharma Meeruthi

Seema Sharma Meeruthi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

aasmaan bhi pukaartaa hai mujhe

آسماں بھی پکارتا ہے مجھے آشیاں بھی لبھا رہا ہے مجھے عکس آخر کہاں گیا میرا آئنہ کیوں چھپا رہا ہے مجھے مجھ میں سورج اگا کے چاہت کا وہ سویرا سا کر گیا ہے مجھے غم کی بارش سے بن گئی دریا اک سمندر بلا رہا ہے مجھے صبح کی سرد سی فضا تھی میں غم کا سورج تپا رہا ہے مجھے میرے اندر بھنور بھی ہے کوئی تجھ سے مل کر پتہ چلا ہے مجھے میں ردا ہوں جو بے وفائی کی کیوں مسلسل تو اوڑھتا ہے مجھے خوبصورت سے گل کا پیکر ہوں اپنے انجام کا پتا ہے مجھے ایک ایسی غزل ہوں میں سیماؔ ہر کوئی گنگنا رہا ہے مجھے

غزل · Ghazal

zarur vaqt hi kuchh chaal chal rahaa hogaa

ضرور وقت ہی کچھ چال چل رہا ہوگا وہی بساط پہ مہرے بدل رہا ہوگا اتر رہا ہے سبھی راستوں سے اک دریا پہاڑ برف کا کوئی پگھل رہا ہوگا اسے کھلونے دئے تھے کسی نے بچپن کے وہ ایک پاؤں پہ اب بھی اچھل رہا ہوگا لباس اپنا بدل آیا تھا بہت پہلے وہ اب تو شکل ہی اپنی بدل رہا ہوگا نہیں ہے اور کسی میں یہ حوصلہ اتنا ہوا کے ساتھ پرندہ ہی چل رہا ہوگا ہوا یوں ہی نہیں آتی ہے غصہ میں سیماؔ چراغ کوئی کہیں پر تو جل رہا ہوگا

غزل · Ghazal

suraj ki tapti dhuup ne maaraa hai in dinon

سورج کی تپتی دھوپ نے مارا ہے ان دنوں پیڑوں کی چھاؤں کا ہی سہارا ہے ان دنوں ہم کو بھی دل کے درد نے مارا ہے ان دنوں درد جگر غزل میں اتارا ہے ان دنوں احساس برف برف ہیں دل کی زمین پر یادوں کی دھوپ کا ہی سہارا ہے ان دنوں سوکھے بدن کی خاک پہ غم کی پھوار تھی یہ ہی سبب ہے جسم میں گارا ہے ان دنوں یہ اشک اب تو پیاس بجھانے لگے مری یہ آبشار اپنا سہارا ہے ان دنوں غم کے تھپیڑے بیچ سمندر میں لے گئے خوشیوں کا مجھ سے دور کنارہ ہے ان دنوں سیماؔ کی دھڑکنیں بھی تمہاری کنیز ہیں دل پر ہمارے راج تمہارا ہے ان دنوں

غزل · Ghazal

mire khaton ko jalaane se kuchh nahin hogaa

مرے خطوں کو جلانے سے کچھ نہیں ہوگا ہوا میں راکھ اڑانے سے کچھ نہیں ہوگا سمجھنے والے تو دل کی زباں سمجھتے ہیں محبتوں کو جتانے سے کچھ نہیں ہوگا ستم ظریفی رہی وقت کی جو دل ٹوٹا کسی پہ دوش لگانے سے کچھ نہیں ہوگا نئی اڑان کی خاطر پروں کو تول ذرا قفس میں شور مچانے سے کچھ نہیں ہوگا کوئی تو تیر نشانے پہ ٹھیک سے پہنچے ہوا میں تیر چلانے سے کچھ نہیں ہوگا نئے گلوں کو کھلاؤ دل زمین پہ تم یہ دل کباب بنانے سے کچھ نہیں ہوگا نئی امید نئے راستے تلاش کرو ہمیشہ مرثیہ گانے سے کچھ نہیں ہوگا بدن سے روح نکل بھی چکی ہے اب ہم دم فضول اشک بہانے سے کچھ نہیں ہوگا زباں سے بات کئی سچ نکل گئی ہو گر بہانے لاکھ بنانے سے کچھ نہیں ہوگا تمہارے جانے سے پتھر میں ڈھل چکی سیماؔ تمہارے لوٹ کے آنے سے کچھ نہیں ہوگا

غزل · Ghazal

puchh mat kal aaine mein kyaa huaa

پوچھ مت کل آئنہ میں کیا ہوا اپنے زندہ ہونے کا دھوکہ ہوا روز سورج ڈوبتا اگتا ہوا وقت کی اک کیل پر لٹکا ہوا آ گیا لے کر ادھاری روشنی چاند نے سورج کو ہے پہنا ہوا تشنگی اپنی بجھائیں کیسے ہم جو سمندر تھا وہ اب صحرا ہوا شہر سے جب بھی یہ دل اکتا گیا دشت کی جانب مرا جانا ہوا خوبیاں میری کوئی گنتا نہیں اک ذرا سی بھول کا چرچا ہوا آ گئی ہوں دور چلتے چلتے میں آسماں پر ہے وہیں ٹھہرا ہوا یاد اس کی دل سے کیوں جاتی نہیں وہ تو سیماؔ کل تھا اک گزرا ہوا

Similar Poets