
Seemab Sultanpuri
Seemab Sultanpuri
Seemab Sultanpuri
Ghazalغزل
ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہوں دیپک کی تان بھی پھولوں سا نرم دل ہوں تو شعلہ بیان بھی آنکھوں کی ٹہنیوں پہ نہ اشکوں کے گل کھلے حالانکہ موتیوں کا کیا ہم نے دان بھی نازک نگاہ ہم سا نہیں کوئی دہر میں پھولوں پہ دیکھ لے جو ہوا کے نشان بھی منہ سے نکل گیا ہے اچانک کسی کا نام دل کی طرح دھڑکنے لگی ہے زبان بھی اوڑھی ہیں جب سے ہم نے سروں پر قناعتیں آساں بھی ہو گیا ہے سفر بے تھکان بھی چلنے کا حوصلہ بھی وہ دیتا رہا مجھے رکھتا رہا قدم بہ قدم امتحان بھی آواز کو سنیں کہ سنیں اس کے شعر ہم سیمابؔ خوش گلو بھی ہے اور خوش بیان بھی
ThanDi havaa kaa jhonkaa huun dipak ki taan bhi
2 views
اللہ دے سکے تو دے ایسی زباں مجھے اپنا سمجھ کے دل سے لگا لے جہاں مجھے صحن چمن سے جب بھی اٹھا ہے دھواں کبھی یاد آ کے رہ گیا ہے مرا آشیاں مجھے خار نفس نے مجھ کو نہ سونے دیا کبھی اک عمر موت دیتی رہی لوریاں مجھے میں اک چراغ لاکھ چراغوں میں بٹ گیا رکھا جو آئنوں نے کبھی درمیاں مجھے میں آنے والے قافلے کا میر بن گیا چھوڑا تھا ساتھیوں نے پس کارواں مجھے ہر موج سے الجھتی ہوئی کھیلتی ہوئی ساحل پہ لائی کشتئ عمر رواں مجھے سیمابؔ دشت زیست سے میں کیا کروں گلہ بخشی ہیں بستیوں نے بھی ویرانیاں مجھے
allaah de sake to de aisi zabaan mujhe
1 views





