Shaariq Qamar
خواب سریکھا چھٹپن ساون پیاز کی روٹی دیسی گھی اما کے سل بٹے والی دھنیے لہسن کی چٹنی کچی مٹی کے گھر جیسے بچوں کو سہلاتے تھے گبری والے دالانوں پر چوٹ کبھی نہ لگتی تھی دس بارہ چھیدوں سے پانی فوارے سا پڑتا تھا گھر میں ٹوٹی تلی والی ایک پرانی سی چھتری سائیکل تھوڑی چوبیس انچی اونٹ چلایا کرتے تھے وہ بھی تین چرن میں بھیا قینچی ڈنڈا پھر گدی نیکر والی عمروں تک ہم خاک سمجھتے تھے جوٹھن طوطے کے کترے امرودوں کو کھانے کی ہوڑ رہی گھر کی کھپڑیل کے اندر ٹپ ٹپ میگھ برستے تھے اما بابو ٹانکتے رہتے ٹین میں صابن کی ٹکی آنگن کے آغوش میں لیٹے شب بھر نام بگاڑے تھے تاروں کو اشٹار کہے تھے اور قمرؔ کو ماما جی
khvaab sarikhaa chhuTpan saavan pyaaz ki roTi desi ghi