SHAWORDS
S

Shad Jeelani

Shad Jeelani

Shad Jeelani

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ہم اپنے جسم و روح کے اندر ہی لے چلیں چل تلخیٔ حیات تجھے گھر ہی لے چلیں بازار بے ادب میں جو سستے ہیں آج کل تہذیب عہد نو کے وہ زیور ہی لے چلیں شہر وفا کی کوئی علامت ضرور ہو گوہر نہیں ملے ہیں تو پتھر ہی لے چلیں موسم کا کوئی ٹھیک نہیں کب ہو مہرباں صحرا کی سمت کوئی سمندر ہی لے چلیں زخموں کا اندمال تو ممکن نہیں مگر دامن پہ لکھ کے نام ستم گر ہی لے چلیں کچھ تو ثبوت چاہیے ارباب شہر کو آنکھوں میں رکھ کے گاؤں کا منظر ہی لے چلیں ان کو یقیں تو آئے وفا کا کسی طرح ان کے حضور شادؔ مرا سر ہی لے چلیں

ham apne jism-o-ruh ke andar hi le chalein

غزل · Ghazal

تپتے ہوئے صحرا میں شجر ڈھونڈ رہا ہوں ملنا ہے گو دشوار مگر ڈھونڈ رہا ہوں سوکھے ہوئے پتے بھی نہیں جن کے بدن پر میں ایسے درختوں پہ ثمر ڈھونڈ رہا ہوں یہ دشت جہالت ہے یہاں کفر ہے ادراک اس دشت میں کیوں علم و ہنر ڈھونڈ رہا ہوں دنیا تو بہت تنگ ہوئی جاتی ہے یارو یہ سوچ کے افلاک میں گھر ڈھونڈ رہا ہوں تخئیل کی پرواز کو جو شعر میں ڈھالے اخبار میں اک ایسی خبر ڈھونڈ رہا ہوں تنگ آ کے غضب ناک اندھیروں کے سفر سے میں شادؔ اجالوں کی ڈگر ڈھونڈ رہا ہوں

tapte hue sahraa mein shajar DhunD rahaa huun

غزل · Ghazal

ہم نے الفاظ غلط منہ سے نکالے تو نہیں صرف ہاتھوں میں رہے سنگ اچھالے تو نہیں میری منزل نے مرے عزم پہ یوں طنز کیا میرے مشتاق ترے پاؤں میں چھالے تو نہیں آپ کی ذات میں زہریلے عناصر کیوں ہیں مار مسموم کبھی آپ نے پالے تو نہیں کوئی مہتاب اگائے گا اسے مانیں گے تیرگی ہے ابھی ہر سمت اجالے تو نہیں جن کے اطوار ہیں شہباز کی فطرت جیسے یہ محافظ ہی کہیں لوٹنے والے تو نہیں ہم تو اجداد کی اغلاط پہ خاموش رہے اب زبانوں میں نئی نسل کے تالے تو نہیں ان کے دامن میں وہی عجز ہے اب بھی اے شادؔ جیسے مغرور پجاری ہیں شوالے تو نہیں

ham ne alfaaz ghalat munh se nikaale to nahin

غزل · Ghazal

دے کے مفہوم کو لفظوں کے خزانے میرے لوگ لکھیں گے مرے بعد فسانے میرے دے گیا گیت کے سر کون نہ جانے میرے ہر پرندے کی زباں پر ہیں ترانے میرے شور دریا نہیں ہے مجھ میں سمندر کا سکوت یہ صفت مجھ کو عطا کی ہے خدا نے میرے پھر مخاطب ہے مرے جسم سے پروا یارو پھر نہ جاگ اٹھیں کہیں درد پرانے میرے بوجھ میں سنگ مروت کا اٹھاؤں کیسے تیرے احسان نے خم کر دئے شانے میرے شب سے پوچھو نئے سورج کی ابھرتی کرنو شب نے دیکھے ہیں ضیا بار زمانے میرے کیسی پرواز کہ پرواز سے پہلے اے دوست بال و پر کاٹ لئے دست ہوا نے میرے سوچتا رہتا ہے ناکام مسافر شب بھر کہکشاں آئے گی رستوں کو سجانے میرے ساحل وقت سے ٹکرا ہی گئی آخر شادؔ مشورے موج تخیل نے نہ مانے میرے

de ke mafhum ko lafzon ke khazaane mere

غزل · Ghazal

سحر سے شب کا نقاب اترا تو میں نے دیکھا زمیں پہ جب آفتاب اترا تو میں نے دیکھا شباب میں تو نظر نہ اس سے ملا سکا میں حیات کا جب شباب اترا تو میں نے دیکھا نہ شعلگی تھی نہ روشنی تھی نہ دل کشی تھی فلک سے نیچے شہاب اترا تو میں نے دیکھا ہوا میں خنکی فضا میں مستی بہکتا موسم نظر سے جام شراب اترا تو میں نے دیکھا خموش ساحل مچلتی موجیں اداس منظر اک آدمی زیر آب اترا تو میں نے دیکھا میں غیر جس کو سمجھ رہا تھا وہ میں ہی خود تھا لباس غیظ و عتاب اترا تو میں نے دیکھا غرور اس کا غم و الم کی گرفت میں تھا جب اس پہ قہر و عذاب اترا تو میں نے دیکھا

sahar se shab kaa naqaab utraa to main ne dekhaa

Similar Poets