
Shad Nimbahedi
Shad Nimbahedi
Shad Nimbahedi
Ghazalغزل
kaun haq pe hai kaun baatil hai
کون حق پہ ہے کون باطل ہے فیصلہ یہ بڑا ہی مشکل ہے روئے تاباں تمہارا کامل ہے آئنہ کب تمہارے قابل ہے کتنی بے چینیاں سمیٹے ہوئے کتنی خاموش موج ساحل ہے میری تربت پے آ کے روتا ہے کیسا ظالم یہ میرا قاتل ہے اب چراغوں پے بس نہیں چلتا کون آندھی کے اب مقابل ہے جس کو میں نے مسیحا سمجھا تھا آزما کر مجھے وہ قائل ہے شادؔ مانو یا پھر نہیں مانو موت ہی زندگی کی منزل ہے
patthar hai ye kabhi kabhi shisha hai aadmi
پتھر ہے یہ کبھی کبھی شیشہ ہے آدمی ہے جو بعید عقل معما ہے آدمی صبح و مسا طلب میں بھٹکتا ہے آدمی کب راز کائنات کو سمجھا ہے آدمی پہلے کرے تو نامۂ اعمال خوش نما جنت کی آرزو میں تو مرتا ہے آدمی پامالیٔ ضمیر پہ روتا ہے خون دل جب بھی کسی نظر سے اترتا ہے آدمی رشتہ ہوا شکستہ مروت نہ کچھ لحاظ آبادیوں کے شہر میں تنہا ہے آدمی پاتا ہے سرفرازیاں رب جلیل سے اے شادؔ جب سجود میں جھکتا ہے آدمی
meraa junun meri firaasat ke saamne
میرا جنون میری فراست کے سامنے سایہ فگن بنا ہے تمازت کے سامنے اوقات کیا بتاؤں تمہیں اس جہان کی طرفہ تماشا ہے مری وحشت کے سامنے ہم نے خدا کی راہ میں سر تک کٹا دیا جھکنا کیا قبول نہ ظلمت کے سامنے سر پر صداقتوں کے حسیں تاج ہیں مگر مجرم ہمیں بنے ہیں عدالت کے سامنے محبوبیت وفا کی حقیقت ہے دوستو دنیا جھکی ہوئی ہے محبت کے سامنے خاموش کیوں ہیں تیرے لب آرزو اے شادؔ بے چین دھڑکنوں کی سماعت کے سامنے
labon pe apne hansi sajaa kar main ji rahaa huun tumhaari khaatir
لبوں پہ اپنے ہنسی سجا کر میں جی رہا ہوں تمہاری خاطر تمام صدموں کو یوں چھپا کر میں جی رہا ہوں تمہاری خاطر وہ وقت رخصت تمہارا ہنسنا نمی تھی آنکھوں میں خوب لیکن سبھی جدائی کے غم بھلا کر میں جی رہا ہوں تمہاری خاطر خموش دھڑکن کھلی ہیں آنکھیں غم جدائی سیاہ راتیں چراغ الفت جلا جلا کر میں جی رہا ہوں تمہاری خاطر جنہیں لبوں سے تھا میں نے چوما جنہیں محبت تھا میں نے مانا انہیں خطوں کو کہیں بہا کر میں جی رہا ہوں تمہاری خاطر جہاں میں آئے پتہ نہیں کیوں کوئی بتائے یہ شادؔ مجھ کو جنازہ خود کا خودی اٹھا کر میں جی رہا ہوں تمہاری خاطر





