SHAWORDS
S

Shaer Fatahpuri

Shaer Fatahpuri

Shaer Fatahpuri

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

غم ہے کانٹوں کا نہ اندیشہ بیابانوں کا عشق ہے راہنما آج بھی دیوانوں کا روح تاریک نظر کور محبت سے گریز کیا فرشتوں میں ہے شہرا انہیں انسانوں کا لفظ جذبات کی تصویر نہیں بن سکتے شکر کیسے ہو ادا حسن کے احسانوں کا دل برباد سے کرتے ہیں جسے ہم تعبیر اسی ویرانے میں اک شہر تھا ارمانوں کا تجھ کو اس دور میں ہے نور حقیقت کی تلاش کون سمجھائے کہ یہ دور ہے افسانوں کا مجھ کو پہلو میں وہ دل چاہیے جس میں شاعرؔ روشنی شمع کی ہو سوز ہو پروانوں کا

gham hai kaanTon kaa na andesha bayaabaanon kaa

غزل · Ghazal

ساقی کی نگاہوں کا پیغام نہیں آتا جس جام کا طالب ہوں وہ جام نہیں آتا مے خواروں کی لغزش پر دنیا کی نگاہیں ہیں نافہمیٔ واعظ پر الزام نہیں آتا اللہ رے مجبوری اللہ رے محرومی یا بارش صہبا تھی یا جام نہیں آتا بیتابیٔ دل راز تسکین محبت ہے اچھے ہیں وہی جن کو آرام نہیں آتا یا دل کے دھڑکتے ہی اٹھتی تھی نظر ان کی یا دل کا تڑپنا بھی اب کام نہیں آتا میکش کی بھی سنتا ہے زاہد کی بھی سنتا ہے اس در سے کبھی کوئی ناکام نہیں آتا میری ہی نظر شاعرؔ رسوا ہے زمانے میں حسن سر محفل پر الزام نہیں آتا

saaqi ki nigaahon kaa paighaam nahin aataa

غزل · Ghazal

وسعت کون و مکاں میں وہ سماتے بھی نہیں جلوہ افروز بھی ہیں سامنے آتے بھی نہیں پارسائی کا ہماری نہیں دنیا میں جواب وقت آ جائے تو دامن کو بچاتے بھی نہیں ہم وہ میکش ہیں کی ساقی کی نظر پھرتے ہی جام کی سمت نگاہوں کو اٹھاتے بھی نہیں خود ہی رنگ رخ محبوب اڑا جاتا ہے ہم تو روداد غم عشق سناتے بھی نہیں بوئے گل جن کا کیا کرتی تھی رہ رہ کے طواف اب چمن میں وہ نشیمن نظر آتے بھی نہیں ہم وہ برباد محبت ہیں خدا شاہد ہے آگ دل میں جو لگی ہو تو بجھاتے بھی نہیں وقت نازک ہے یہ کیا سوچ رہے ہو شاعرؔ ایسی ظلمت میں کوئی شمع جلاتے بھی نہیں

vusat-e-kaun-o-makaan mein vo samaate bhi nahin

غزل · Ghazal

جو کیف عشق سے خالی ہو زندگی کیا ہے شگفتگی نہ ملے جس میں وہ کلی کیا ہے مری نگاہ میں ہے ان کا عارض روشن یہ کہکشاں یہ ستارے یہ چاندنی کیا ہے جمال یار کی رعنائیوں میں گم ہے نظر مجھے یہ ہوش کہاں ہے کہ زندگی کیا ہے اٹھا بھی جام کہ دنیا ترے قدم چومے یہ مے کدہ ہے یہاں عیش کی کمی کیا ہے تمہاری یاد میں بیٹھے ہیں دل کو بہلانے صنم تراشی و ذوق مصوری کیا ہے نفس نفس پہ یہ احساس غم یہ مجبوری خدا گواہ قیامت ہے زندگی کیا ہے نگاہ شوق کے اٹھنے کی دیر ہے شاعرؔ وہ بیقرار نہ آئے تو بات ہی کیا ہے

jo kaif-e-ishq se khaali ho zindagi kiyaa hai

غزل · Ghazal

دم تعمیر تخریب جہاں کچھ اور کہتی ہے کلی کچھ اور کہتی ہے خزاں کچھ اور کہتی ہے کدہ کی یاد سب کچھ ہے مگر اے زاہد ناداں دلوں سے مستئ چشم بتاں کچھ اور کہتی ہے کبھی شاید وہ دور آئے جب انساں ہو سکے انساں ابھی تو گردش ہفت آسماں کچھ اور کہتی ہے بنا کر آشیانے فصل گل میں شاد ہیں لیکن چمن والوں سے برق بے اماں کچھ اور کہتی ہے بہت مشکل ہے منزل تک جو اہل کارواں پہنچیں کہ ہم سے گرد راہ کارواں کچھ اور کہتی ہے یہ غفلت اے حیات چند روزہ کے پرستارو اٹھو تم سے حیات‌‌ جاوداں کچھ اور کہتی ہے اثر نغموں میں بھی ہے نالہ ہائے غم میں بھی شاعرؔ مگر ٹوٹے ہوئے دل کی فغاں کچھ اور کہتی ہے

dam-e-taamir takhrib-e-jahaan kuchh aur kahti hai

Similar Poets