Shafiq Ahmad
Shafiq Ahmad
Shafiq Ahmad
Ghazalغزل
thoDaa bahut jo pyaar milaa gham-gusaar se
تھوڑا بہت جو پیار ملا غم گسار سے وہ بھی گماں نے چھین لیا قلب زار سے ہے کون سا مقام محبت نہ پوچھئے نزدیک آ کے ہو گیا میں دور یار سے عقل و خرد کے دام میں الجھی ہوئی حیات کب تک فریب کھائے گی اپنے غبار سے آیا یہ شاخ گل کی طرح کون جھومتا انگڑائی لے رہا ہے چمن بھی خمار سے دل کی زمیں پہ کس نے یہ رکھا قدم شفیقؔ آواز کس کی آئی اس اجڑے دیار سے
yaad teri siyaah raaton mein
یاد تیری سیاہ راتوں میں ہے فروزاں ہماری نظروں میں میں نے ان سے کیا تھا ایک سوال اس کا آیا جواب برسوں میں جستجو کے دیے رہیں روشن منزلیں اور بھی ہیں قدموں میں زندگانی گر اک سوال نہیں عمر کٹ جائے کیوں جوابوں میں ابر نیساں پھر آج برسے گا ہیں صدف بے قرار بحروں میں نظریں گستاخ ہو گئیں میری کچھ اشارہ تھا ان کی آنکھوں میں
mujrimon par nigah-e-lutf-e-zamaana dekhun
مجرموں پر نگہ لطف زمانہ دیکھوں بے گناہوں کو میں ظالم کا نشانہ دیکھوں میری نظریں تو بلندی کی طرف رہتی ہیں تو ہے شاہین مرا تیرا ٹھکانا دیکھوں اف وہ آنکھیں کہ ستارے سمٹ آئیں جن میں ہائے وہ چال کہ پامال زمانہ دیکھوں یاس میں ڈوبی ہوئی شام کی تنہائی میں میں دبے پاؤں تری یاد کا آنا دیکھوں پیچ و خم جسم کے خود دعوت نظارہ ہیں ان ہی موڑوں میں اترنے کا بہانہ دیکھوں
dil se tumhaari yaad bhulaane chalaa huun main
دل سے تمہاری یاد بھلانے چلا ہوں میں لو اور شمع غم کی بڑھانے چلا ہوں میں بہتر وہ موت ہے جو ملے زندگی سے دور ویرانیوں میں خود کو لٹانے چلا ہوں میں بے کار زندگی یہ خلش کے بغیر تھی ہاتھ اپنا حادثوں سے ملانے چلا ہوں میں پھر ڈوبنے چلا ہوں کسی کی نگاہ میں پھر ہوش کھو کے ہوش میں آنے چلا ہوں میں شمعیں جلا کے آرزوؤں کے مزار پر بربادیوں کا جشن منانے چلا ہوں میں ناکام حسرتوں کے جنازے لئے ہوئے دنیا کو اپنے زخم دکھانے چلا ہوں میں ٹھکرا کے آج سارے سہاروں کو اے شفیقؔ خود اپنی بگڑی آپ بنانے چلا ہوں میں
hansi labon se chaman se gulon ko chhinaa hai
ہنسی لبوں سے چمن سے گلوں کو چھینا ہے اس اقتدار نے کتنوں کا گھر اجاڑا ہے ہر ایک کوچہ و بازار خوں سے ہے رنگیں ہمارے شہر میں پانی سے خون سستا ہے ہیں جتنے پھول وہ سب ہیں نظر چرائے ہوئے چمن میں اپنا رفیق ایک خار تنہا ہے خلوص پیار کی اب چاندنی کہاں لوگو ہر ایک دل پہ مسلط یہاں اندھیرا ہے نگاہ پڑتی ہے اس پر تو ہوش اڑتے ہیں شراب تو وہ نہیں ہے شراب جیسا ہے گزر رہے ہیں یہ کس دور سے خدا جانے ہر ایک لمحہ نیا انقلاب لاتا ہے





