
Shafique Saifi
Shafique Saifi
Shafique Saifi
Ghazalغزل
dimaagh-o-dil bachaanaa chaahtaa huun
دماغ و دل بچانا چاہتا ہوں تری یادیں مٹانا چاہتا ہوں اداسی منہ بنا لیتی ہے اکثر میں جب بھی مسکرانا چاہتا ہوں اگر بھولو نہیں اک بات بولوں میں تم کو یاد آنا چاہتا ہوں کھلی ہیں کھڑکیاں اس گھر کی لیکن میں دروازے سے جانا چاہتا ہوں چلو تم سے تعلق ختم کر کے گلے شکوے بھلانا چاہتا ہوں
main ne lafzon mein jo nami ki hai
میں نے لفظوں میں جو نمی کی ہے رو نہ پایا تو شاعری کی ہے مجھ کو کیا کرتی زندگی برباد میں نے برباد زندگی کی ہے کیسی قسمت ہے میری قسمت کی میں نے نوکر کی نوکری کی ہے میں نے مانا نہیں برا لیکن بات تو آپ نے بری کی ہے تم کہیں اور بیٹھ لو جا کر یہ جگہ تو شفیقؔ جی کی ہے
kyaa bataaun main tum ko kahaani miri
کیا بتاؤں میں تم کو کہانی مری زندگی کھا گئی ہے جوانی مری تیرے غم نے بگاڑا ہے چہرہ مرا ساری دنیا تھی ورنہ دوانی مری میرے سینہ پہ کشتی چلاؤ گے تم تم نے دیکھی کہاں ہے روانی مری بولتا ہے مجھے یاد کرتا نہیں پاس رکھتا ہے لیکن نشانی مری میری نیندوں کو برباد کر کے شفیقؔ چین سے سو رہی ہے وہ رانی مری





