SHAWORDS
S

Shah Aalam Raunaq

Shah Aalam Raunaq

Shah Aalam Raunaq

poet
2Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

مجھ کو زندگانی سے تلخیاں نہیں ہوتیں ہاتھ میں اگر میرے ڈگریاں نہیں ہوتیں باغباں نے خود اپنا اعتبار کھو ڈالا اس لئے بغیچے میں تتلیاں نہیں ہوتیں ہر غریب میں ان کو خامیاں نظر آئیں بس امیر لوگوں میں خامیاں نہیں ہوتیں زخم کے لیے آخر اک زبان کافی ہے ہر کسی کے ہاتھوں میں برچھیاں نہیں ہوتیں بد دعاؤں سے بچ کر آدمی رہے ورنہ مفلسوں کی آہوں میں سسکیاں نہیں ہوتیں کیا پتہ انہیں کیسے جنم دن مناتے ہیں جن گھروں میں کھانے کو روٹیاں نہیں ہوتیں خوش نصیب ہیں جن کو رحمتیں ملیں رونقؔ ہر کسی کی قسمت میں بیٹیاں نہیں ہوتیں

mujh ko zindagaani se talkhiyaan nahin hotin

غزل · Ghazal

اک سمندر ہے میری آنکھوں میں غم کا منظر ہے میری آنکھوں میں تم ستاروں کی بات کرتے ہو سارا امبر ہے میری آنکھوں میں جس نے رنج و الم دئے ہیں مجھے وہ ستم گر ہے میری آنکھوں میں یوں تو پردیس میں ترقی ہے پر مرا گھر ہے میری آنکھوں میں میرے خوابوں کا قتل کرنے کو کوئی خنجر ہے میری آنکھوں میں تو کسی اور کا نہ ہو جائے بس یہی ڈر ہے میری آنکھوں میں تم کو دل میں دکھائی دے یا نہ دے زخم اندر ہے میری آنکھوں میں سچ تو یہ ہے کے آج بھی رونقؔ اک قلندر ہے میری آنکھوں میں

ik samundar hai meri aankhon mein

Similar Poets