Shah Khamosh Sabri
jo aashiq ki abru kaa kham dekhte hain
جو عاشق کہ ابرو کا خم دیکھتے ہیں اسی خم کو طاق حرم دیکھتے ہیں سمجھ بوجھ اپنی تو کچھ اور ہی ہے صنم کو نہیں ہم صنم دیکھتے ہیں نظارہ ہے دیدار دلبر کا جن کو وہ کب سیر باغ ارم دیکھتے ہیں تماشا نظر آیا قدرت کا نادر کہیں کیا کہ یارو جو ہم دیکھتے ہیں مچی آنکھ جب تھی بہت سیر دیکھی کھلی چشم اب ہے تو کم دیکھتے ہیں سمجھ لو ہیں محروم لذات دیں سے جو دنیا کے ناز و نعم دیکھتے ہیں