SHAWORDS
Shahdil Shams

Shahdil Shams

Shahdil Shams

Shahdil Shams

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

زمیں سے زیر ہوا ہوں نہ آسماں سے میں بندھا ہوا ہوں مقدر کے بادباں سے میں لپٹ کے روئے گا پندار بے کراں مجھ سے پکارا جاؤں گا فہرست رفتگاں سے میں مرے خدا کو ہی جب مجھ پہ اعتبار نہیں نکل نہ جاؤں فرشتوں کے درمیاں سے میں مرے لیے تھے سبھی سانپ باعث رحمت وہ آستین سے نکلے تو آستاں سے میں وصال و ہجر سے بڑھ کر بھی لاکھ غم ہیں مجھے نکال دوں گا محبت کو داستاں سے میں زمانے بھر کے عذابوں نے مجھ کو گھیر لیا جدا ہوا ہوں جوں ہی شمسؔ اپنی ماں سے میں

zamin se zer huaa huun na aasmaan se main

غزل · Ghazal

ہاتھ میں جام ہے دل کو آرام ہے اب ہمیں عشق سے کوئی کیا کام ہے جس نے لوٹا ہمیں پارسا تھی بہت یہ طوائف تو بس یوںہی بدنام ہے جائیے شیخ جی ہم سے ملیے نہیں ہم پہ پینے پلانے کا الزام ہے خالی بوتل ہیں ہم وہ بھی ٹوٹی ہوئی ہم سمجھتے ہیں کیا اپنا انجام ہے وہ ملے خواب میں اور کہنے لگے یہ سہولت بھی بس آج کی شام ہے

haath mein jaam hai dil ko aaraam hai

غزل · Ghazal

دکھی دلوں کا سہارا جہاں میں کوئی نہیں ہمارے درد کا چارا جہاں میں کوئی نہیں گرے گا کون ترے در پہ آ کے میری طرح کہ ایسا بخت کا مارا جہاں میں کوئی نہیں یہ عشق ایسا سمندر ہے سوچ لو پہلے کہ اس کا دوجا کنارا جہاں میں کوئی نہیں کچھ اس لیے بھی خدا پر یقین پختہ ہے سوائے اس کے ہمارا جہاں میں کوئی نہیں ہنسی خوشی ہی جیو زندگی کے سب لمحے پلٹ کے آیا دوبارہ جہاں میں کوئی نہیں سنے گا کون تمہاری کسے پکارتے ہو نہیں ہے شمسؔ تمہارا جہاں میں کوئی نہیں

dukhi dilon kaa sahaaraa jahaan mein koi nahin

غزل · Ghazal

اسی لیے تو کھڑے ہم بتوں کی صف میں ہیں خدا پرست بھی جب کافروں کی صف میں ہیں حرم کے پاس بنائے گئے ہیں میخانے ہم ایسے رند بھی اب حاجیوں کی صف میں ہیں ہے کیسا وقت خدایا سخن پہ آیا ہوا لطیفہ گو بھی کئی شاعروں کی صف میں ہیں کمان داروں سے کہہ دو ابھی نہ وار کریں ہمارے دوست ابھی دشمنوں کی صف میں ہیں ہمارے زخم پرانے ادھیڑنے والے سنا ہے آپ تو بخیہ گروں کی صف میں ہیں یہ کن دنوں میں ہیں نیلام ہونے والے ہم کھڑے غلام بھی سوداگروں کی صف میں ہیں ہمارے نام پہ کرتے ہیں قتل آج بھی لوگ شہید ہو کے بھی ہم قاتلوں کی صف میں ہیں

isi liye to khaDe ham buton ki saf mein hain

غزل · Ghazal

تھے جو دو چار مر گئے ہیں کیا وہ مرے یار مر گئے ہیں کیا میرے مرنے پہ کیوں نہیں روتے سب عزادار مر گئے ہیں کیا اب کہاں ہیں وہ چارہ گر میرے جا کے اس پار مر گئے ہیں کیا وہ تسلی جو دینے آتے تھے دل بیمار مر گئے ہیں کیا ہر طرف پارسا ہی بیٹھے ہیں سب گنہ گار مر گئے ہیں کیا کیوں ہے ویرانی میکدے میں آج سارے مے خوار مر گئے ہیں کیا شہر خستہ یہ کیا ہوا تجھ کو تیرے معمار مر گئے ہیں کیا کیوں یہ کاسہ بدست ہیں حاکم جو تھے خوددار مر گئے ہیں کیا دھول جمنے لگی ہے خوابوں پر سب خریدار مر گئے ہیں کیا جو پرندے شجر کی رونق تھے وہ ندی پار مر گئے ہیں کیا

the jo do chaar mar gae hain kyaa

Similar Poets