SHAWORDS
Shahid Jamal

Shahid Jamal

Shahid Jamal

Shahid Jamal

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

pahaaD hone kaa saaraa ghurur kaanp uThaa

پہاڑ ہونے کا سارا غرور کانپ اٹھا بس اک ذرا سی تجلی سے طور کانپ اٹھا ہوا نے جیسے ہی تیور دکھائے ہیں اپنے نکل رہا تھا دیئے سے جو نور کانپ اٹھا پڑھی جو جبر و تشدد کی داستان کہیں کبھی شعور کبھی لا شعور کانپ اٹھا لبوں پہ آ نہ سکی اپنے دل کی ایک بھی بات کہ جب بھی پہنچا میں اس کے حضور کانپ اٹھا سزا کچھ ایسی ملی ایک بے قصور کو آج ہوا تھا اصل میں جس سے قصور کانپ اٹھا

غزل · Ghazal

ye din ye raat ye shaam-o-sahar sameT liye

یہ دن یہ رات یہ شام و سحر سمیٹ لئے غزل کے شوق نے کتنے پہر سمیٹ لئے فضا میں ایسا تعصب کا زہر پھیل گیا نہ جانے کتنے پرندوں نے پر سمیٹ لئے سماج تیری مرمت نہ ہو سکے گی کہیں جو ہم غریبوں نے دست و ہنر سمیٹ لئے یہ سوچ کر کہ اندھیرے نہ زندگی بن جائیں جہاں جہاں ملے شمس و قمر سمیٹ لئے بکھیر پائے نہ ہم راستوں میں پھول مگر ملے جو خار سر رہ گزر سمیٹ لئے پتا بتائے گا اب وقت ان کی منزل کا مسافروں نے تو رکھتے سفر سمیٹ لئے سمجھ میں آ گئی شاہدؔ اگر کوئی بھی ردیف جو قافیہ بھی لگے معتبر سمیٹ لئے

غزل · Ghazal

chalo ik baar ho jaate hain phir sairaab tum se ham

چلو اک بار ہو جاتے ہیں پھر سیراب تم سے ہم چلو پھر سیکھتے ہیں عشق کے آداب تم سے ہم چلو پھر زندگی گھٹ گھٹ کے جینا بند کرتے ہیں چلو ملتے ہیں لے کر پھر دل بے تاب تم سے ہم چلو ہم بات کرتے کرتے کرتے ہیں سویرا پھر چلو پھر رات بھر کھاتے ہیں پیچ و تاب تم سے ہم چلو پھر سے گزاریں رات دونوں آنکھوں آنکھوں میں چلو پھر سے چراتے ہیں تمہارے خواب تم سے ہم چلو پھر دیکھتے رہتے ہیں ہم اک دوسرے کو بس چلو پھر پوچھتے ہیں چپ کے سب اسباب تم سے ہم چلو پھر تم سے ہم کرتے ہیں ضد آئینہ بننے کی چلو پھر کرتے ہیں خود کو ذرا شاداب تم سے ہم چلو شاہدؔ کو بخشا ہے اگر کچھ حوصلہ تم نے چلو ہوتے رہیں گے اب محبت یاب تم سے ہم

غزل · Ghazal

jo bhi miltaa hai usi ko pujne lagtaa huun main

جو بھی ملتا ہے اسی کو پوجنے لگتا ہوں میں کیا کروں مجبوریوں ہیں گاؤں سے آیا ہوں میں کل بھی احساسات کے شعلوں پہ تھا میرا وجود آج بھی ہر لمحہ سونے کی طرح لگتا ہوں میں مجھ سے ہی قائم ہے اب تک تیرا تہذیبی وقار توڑ مت مجھ کو کہ گھر کا صدر دروازہ ہوں میں میں ترے ساحل پہ آیا ہوں کہ دیکھوں تیرا ظرف اے سمندر تجھ سے کس نے کہہ دیا پیاسا ہوں میں سانس تک لینا بھی ہے دشوار جب اس شہر میں زندگی تجھ پر مرا احسان ہے زندہ ہوں میں لاکھ بنیادوں میں تو نے ڈھک کے رکھا ہے مجھے اے حویلی کے کھنڈر اب بھی طرح حصہ ہوں میں میں بضد ہوں اس پہ کہ سب مجھ کو سمجھیں آئینہ جبکہ آئینہ بخوبی جانتا ہے کیا ہوں میں

Similar Poets