Shahryar Parwaz
bajaa hai ab to karam mein koi kalaam nahin
بجا ہے اب تو کرم میں کوئی کلام نہیں نگاہ خاص ہے مجھ پر نگاہ عام نہیں بجھے بجھے سے ہیں لیل و نہار کے فانوس ضیائے مہر نہیں ہے مہ تمام نہیں نہیں ہے جس میں ترے زلف و رخ کی پرچھائیں وہ صبح صبح نہیں ہے وہ شام شام نہیں نہ ہم کو جرأت تحریر شوق ہے نہ انہیں کسی طرف سے کوئی نامہ و پیام نہیں وہ بات جو نگہ مبتلا نے کہہ ڈالی وہ ایک بات ہی کیا حاصل کلام نہیں ہیں لاکھ بند سلاسل کے بعد بھی آزاد اسیر زلف ہیں تیرے اسیر دام نہیں سنائیں کیسے دم نزع اپنا افسانا نفس تمام فسانہ ابھی تمام نہیں تمام عالم تعمیر کانپ اٹھے گا شکست دل ہے یہ ساقی شکست جام نہیں نمود و نام کا احساس خام ہے پروازؔ مرے کلام کا حاصل نمود و نام نہیں