SHAWORDS
Shahzad Baig

Shahzad Baig

Shahzad Baig

Shahzad Baig

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

روشنی یوں در و دیوار سے آنے لگی ہے ایسے لگتا ہے مرا جسم جلانے لگی ہے سال کے اور مہینے بھی تو ہوتے ہیں یہاں کیوں دسمبر میں تری یاد ستانے لگی ہے اس طرح پہلے کبھی ٹوٹ کے بکھرے ہی نہ تھے جس طرح اب کہ شناسائی بھی جانے لگی ہے تجھ کو سوچا تجھے دیکھا تجھے چاہا میں نے اب کہیں جا کے مری ذات ٹھکانے لگی ہے کوئی ہم شکل ہے میرا کہ کوئی وہم ہے یہ یہ جو تنہائی بھی اب آنکھ دکھانے لگی ہے میں تو بے رنگ سا اک فرد ہوں اور تیز ہوا نقش سادہ کو بھی شہزادؔ مٹانے لگی ہے

raushni yuun dar-o-divaar se aane lagi hai

1 views

غزل · Ghazal

لمحۂ عشق تجھے آگ لگانے لگا ہوں اپنی بربادی کا میں جشن منانے لگا ہوں ترے ہونے کی طلب مجھ کو ستانے لگی ہے سو میں تنہائی کو اب راہ پہ لانے لگا ہوں لوگ یوں مجمع لگائے ہوئے ہیں گرد مرے جس طرح کوئی تماشا میں دکھانے لگا ہوں توڑ کر مجھ کو میاں تو بھی سلامت نہ رہا اپنے ملبے سے ترے نقش اٹھانے لگا ہوں محو حیرت ہے مرے سامنے دنیا والے جیسے قدرت کا کوئی راز بتانے لگا ہوں منجمد کر کے ترے عہد کے سارے قصے اک شرر وعدۂ فردا کو دکھانے لگا ہوں اب مرے دل میں کوئی شخص اتر آیا ہے اب ترے دل سے بہت دور میں جانے لگا ہوں میں نے تنہائی میں یہ عہد کیا تھا خود سے کتنی آسانی سے شہزادؔ ٹھکانے لگا ہوں

lamha-e-'ishq tujhe aag lagaane lagaa huun

1 views

غزل · Ghazal

مسند خاک پہ بیٹھے ہیں بٹھانے والے کیا عجب لوگ ہیں دربار سجانے والے کیا مرے ساتھ ابھی اور بھی کچھ ہونا ہے آئے بیٹھے ہیں مجھے اپنا بنانے والے تری نیت پہ بھروسہ نہیں کر سکتا میں سامنے سب کے یوںہی اشک بہانے والے خال و خد کچھ ہیں ادا کچھ ہے تکلم کچھ ہے ایسے ہوتے ہیں کہاں لوگ زمانے والے میں تو سمجھا تھا کہ غیروں نے نوازا ہے مجھے اپنے ہی لوگ تھے سب زخم لگانے والے میں کوئی عکس نہیں دھوپ میں اڑنے والا مجھ کو سورج کی تمازت سے ڈرانے والے ہاتھ ملنے کے سوا اور تجھے کچھ نہ ملا مرا اندازہ مرے بعد لگانے والے تو مجھے بھولنا چاہے گا جو شہزادؔ کبھی یاد آؤں گا تجھے اور بھلانے والے

masnad-e-khaak pe baiThe hain biThaane vaale

1 views

غزل · Ghazal

شکست کھانے سے پہلے ہی تجھ سے ہار گیا وہ شخص وقت سے پہلے ہی مجھ کو مار گیا گزر چکا ہوں مگر دیکھنے کو زندہ ہوں وہ ایک تیر سا دل میں مرے اتار گیا میں اپنی آنکھیں اسے دان کر چکا ہوں مگر جو اپنا پیار مرے عشق پہ تھا وار گیا قرار ڈھونڈنے والا قرار سے پہلے وہ اپنا وعدۂ فردا بھی تھا نثار گیا پلٹتے وقت جسے حوصلہ میں دیتا رہا وہ روتے روتے کئی بار تھا پکار گیا

shikast khaane se pahle hi tujh se haar gayaa

غزل · Ghazal

ہر کسی سے تو گزارش نہیں کی جا سکتی تیرے بارے میں نمائش نہیں کی جا سکتی یوں تو اس دل سے گزرتے ہو کئی برسوں سے کیا کبھی اس میں رہائش نہیں کی جا سکتی سامنے تو ہو تو بس دیکھتے رہنا ہے مجھے ایسے حالات میں جنبش نہیں کی جا سکتی تیری آنکھوں سے تو ہو سکتی ہیں باتیں لیکن تجھ کو چھو لینے کی کوشش نہیں کی جا سکتی زندگی سونپ تو دی ہے تجھے ہم نے لیکن عمر بھر ایسی نوازش نہیں کی جا سکتی تو جو آ جائے تو ہو جائے گا جل تھل موسم خشک آنکھوں سے تو بارش نہیں کی جا سکتی میں تو برباد ہوں پہلے ہی یہ سب جانتے ہیں کیا کوئی اور بھی سازش نہیں کی جا سکتی بد گمانی وہ مرے بارے میں رکھتا ہے بہت میرے شعروں سے تو رنجش نہیں کی جا سکتی میں سلیقے سے گزرتا ہوں وہاں سے شہزادؔ اس سے بڑھ کر تو پرستش نہیں کی جا سکتی

har kisi se to guzaarish nahin ki jaa sakti

Similar Poets