Shahzad Chandauswi
Shahzad chandauswi
Shahzad chandauswi
Ghazalغزل
khud ko is tarh shaad-kaam karo
خود کو اس طرح شاد کام کرو پیار کی بات صبح شام کرو دوستی کا جب اہتمام کرو دشمنوں کا بھی احترام کرو نفرتیں دیکھ لیں زمانے نے امن اور آشتی بھی عام کرو خود ہی چن لو نشاط کی کلیاں جتنے غم ہیں وہ میرے نام کرو جو بھی کہنا ہے صاف صاف کہو یوں نظر سے نہ قتل عام کرو خود غرض دوستوں کو اے شہزادؔ دور سے ہی فقط سلام کرو
jaltaa hai roz dil yuun miraa hijr-e-yaar mein
جلتا ہے روز دل یوں مرا ہجر یار میں جیسے سلگ رہا ہو گلستاں بہار میں ممکن نہیں ہے لوٹ کے آنا ترا مگر اک لطف خاص دیکھا ترے انتظار میں ارمان کیسے کیسے تھے کیا کیا تھیں حسرتیں سب دفن ہو گئے مرے دل کے مزار میں اے دوست تیری نذر کروں بھی تو کیا کروں سانسیں بھی اب نہیں ہیں مرے اختیار میں یہ کون یاد آ گیا تنہائیوں میں آج کس نے لگائی آگ سکون و قرار میں دن کا سکون رات کی نیندیں چلی گئیں سب کچھ لٹا دیا ہے ترے انتظار میں شہزادؔ ہر طرف ہے مرا تذکرہ تو کیا میں اجنبی ہوں آج بھی اپنے دیار میں





