SHAWORDS
Shahzad Faiz

Shahzad Faiz

Shahzad Faiz

Shahzad Faiz

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کیا بتاؤں وہ کیسے ملتے ہیں جیسے مفلس کو پیسے ملتے ہیں جس طرح سے مجھے ملے ہیں آپ آنے والوں سے ایسے ملتے ہیں شہر میں ایسے کون ملتا ہے لوگ گاؤں میں جیسے ملتے ہیں کوئی جھگڑا نہیں ہمارے بیچ جیسے ملتے تھے ویسے ملتے ہیں ان سے مل کر سبق ملا مجھ کو فیضؔ جیسے کو تیسے ملتے ہیں

kyaa bataaun vo kaise milte hain

غزل · Ghazal

تو نے ایسا بھی کیا کیا مجھ پر بے اثر ہو گئی دوا مجھ پر رونا لازم نہیں مرے ہم دم مسکرا قہقہہ لگا مجھ پر خاک میں اڑ گیا مرا خاکہ اس طرح آسماں گرا مجھ پر تم گھڑی بھر کو رک نہیں جاتے رحم کرتے نہیں ذرا مجھ پر مجھ کو جڑ سے اکھاڑنے والے پنچھی کرتے تھے آسرا مجھ پر میری مٹی بھی فیضؔ سونا ہے مہرباں ہو اگر خدا مجھ پر

tu ne aisaa bhi kyaa kiyaa mujh par

غزل · Ghazal

اب نہ ہولی ہے نہ دوالی ہے گویا تہذیب مٹنے والی ہے زندگی فرش پہ پڑی تھی اور میں نے آغوش میں اٹھا لی ہے سب مروت کے کھیت بنجر ہیں سارے گاؤں میں خشک سالی ہے خواہشوں سے بھرا ہوا ہے دل یہ الگ بات جیب خالی ہے اب تو سگریٹ بھی پی رہے ہو تم تم نے حالت یہ کیا بنا لی ہے آج دربار پر وہ آئے گی آج دربار پر قوالی ہے سارے مجبور دینے والے ہیں کوئی جابر ہوا سوالی ہے مڑ کے آتے نہیں ہوں گاؤں میں اپنی دنیا کہاں بسا لی ہے پھر سے جھرنا رواں ہے آنکھوں سے کوہ رخسار پر بحالی ہے فیضؔ اہل زبان کے نزدیک ایک بے وزن شعر گالی ہے

ab na holi hai na divaali hai

Similar Poets